شاعری

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا نہ سنا تم نے ماجرا دل کا اپنے مطلب کی سب ہی کہتے ہیں ہے نہیں کوئی آشنا دل کا عشق میں ایسی کھینچی رسوائی ہو گیا شور جا بجا دل کا اس قدر بے حواس رہتا ہے جیسے کچھ کوئی لے گیا دل کا ایک بوسے پہ بیچتے تھے ہم تو نے سودا نہ کچھ کیا دل کا تیرے ملنے سے فائدہ کیا ...

مزید پڑھیے

مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتا

مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتا جیب و دامن کے تئیں اشک سے دھوتا دھوتا غیر از خار ستم کچھ نہ اگا اور کہیں کشت الفت میں پھرا اشک میں بوتا بوتا رفتہ رفتہ ہوا آخر کے تئیں کو مفلس نقد کو عمر کی میں ہجر میں کھوتا کھوتا گرچہ فرہاد تھا اور قیس جنوں میں مشہور ایک دن میں بھی پہنچ ...

مزید پڑھیے

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں ہر گام پہ دہشت سے بے جان نکلتے ہیں یہ آن ہے اے یارو یا نوک ہے برچھی کی یا سینے سے تیروں کے پیکان نکلتے ہیں رندوں نے کہیں ان کی خدمت میں بے ادبی کی جو شیخ جی مجلس سے سرسان نکلتے ہیں یہ طفل سرشک اپنے ایسا ہو میاں بہکیں بے طرح یہ اب گھر سے نادان ...

مزید پڑھیے

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے تیرے کوچے میں نقش پا کی طرح ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے ایک دن میں نے یار سے یہ کہا اب تو ہم طاقت و تواں سے گئے ہنس کے بولا کہ سن لے اے آصفؔ یہی کہہ کہہ کے لاکھوں جاں سے ...

مزید پڑھیے

جو شمشیر تیری علم دیکھتے ہیں

جو شمشیر تیری علم دیکھتے ہیں تو ووہیں سر اپنا قلم دیکھتے ہیں تجھے غیر سے جب بہم دیکھتے ہیں نہ دیکھے کوئی جو کہ ہم دیکھتے ہیں جو چاہیں کہ لکھیں کچھ احوال دل کا تو ہاتھوں کو اپنے قلم دیکھتے ہیں تو جلدی سے آور نہ میرے مسیحا کوئی دم کو راہ عدم دیکھتے ہیں گلی میں بتوں کی شب و روز ...

مزید پڑھیے

غیر پر لطف کرے ہم پہ ستم یا قسمت

غیر پر لطف کرے ہم پہ ستم یا قسمت تھا نصیبوں میں ہمارے یہ صنم یا قسمت یار تو یار نہیں بخت ہیں سو الٹے ہیں کب تلک ہم یہ سہیں درد و الم یا قسمت کوچہ گردی سے اسے شوق ہے لیکن گاہے اس طرف کو نہیں رکھتا وہ قدم یا قسمت کوچۂ یار میں تھوڑی سی جگہ دے اے بخت مانگتا تجھ سے نہیں ملک عجم یا ...

مزید پڑھیے

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا اب کیا کروں علاج دل داغدار کا اس سے مجھے ملاؤ کہ مرتا ہوں ہجر میں باعث ہے زندگی کا مری وصل یار کا صیاد اب تو چھوڑ دے آتی ہے فصل گل دیکھوں گا ہائے کیوں کہ تماشا بہار کا شاید تمہارے دیں میں ہے اے دلبرو روا دل چھین لینا عاشق سینہ فگار کا شبنم نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

جن کے زیر نگیں ستارے ہیں

جن کے زیر نگیں ستارے ہیں کچھ سنا تم نے وہ ہمارے ہیں ان کے آنکھوں کے وہ کنارے دو بے کرانی کے استعارے ہیں آنسوؤں کو فضول مت سمجھو یہ بڑے قیمتی سہارے ہیں جو چمکتے تھے بام گردوں پر خاک میں آج وہ ستارے ہیں گرمی شوق نے تری آصفؔ ان کے رخسار و لب نکھارے ہیں

مزید پڑھیے

یہ دل میں وسوسہ کیا پل رہا ہے

یہ دل میں وسوسہ کیا پل رہا ہے ترا ملنا بھی مجھ کو کھل رہا ہے جسے میں نے کیا تھا بے خودی میں جبیں پر اب وہ سجدہ جل رہا ہے مجھے مت دو مبارک باد ہستی کسی کا ہے یہ سایہ چل رہا ہے سر صحرا سدا دل کے شجر سے برستا دور اک بادل رہا ہے فساد لغزش تخلیق آدم ابھی تک ہاتھ یزداں مل رہا ہے دلوں ...

مزید پڑھیے

یہ مری بزم نہیں ہے لیکن (ردیف .. و)

یہ مری بزم نہیں ہے لیکن دل لگا ہے تو لگا رہنے دو جانے والوں کی طرف مت دیکھو رنگ محفل کو جما رہنے دو ایک میلہ سا مرے دل کے قریب آرزوؤں کا لگا رہنے دو ان پہ پھایا نہ رکھو مرہم کا میرے زخموں کو ہرا رہنے دو دوستانہ ہے شکستہ جس سے اس کو سینے سے لگا رہنے دو ہوش میں ہے تو زمانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3904 سے 4657