شاعری

ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے

ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے تو آ کے مل نہ مل یہ ترا اختیار ہے جس جس کے پاس دوستو جس جس کا یار ہے بہتر چمن سے گھر میں اسی کے بہار ہے تم زخم دل کی میرے خبر پوچھتے ہو کیا تیر نگاہ دل کے تو اب وار پار ہے گر دشمنی پہ دوست نے باندھی مرے کمر دشمن ہے اب جو کوئی مرا دوست دار ہے لگتی ...

مزید پڑھیے

آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے

آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے جاتا ہوں میں بھی سر کے تئیں روبرو لیے گلزار یک بہ یک جو مہکنے لگا ہے یوں سچ کہہ صبا تو پھرتی ہے یاں کس کی بو لیے سوئے کبھی نہ ساتھ ہمارے خوشی سے تم جاویں گے گور میں یہی ہم آرزو لیے دیتا نہیں ہے چین الٰہی میں کیا کروں پھرتا ہوں رات دن دل بے تاب کو ...

مزید پڑھیے

کس قدر درد کے شب کرتا تھا مذکور ترا

کس قدر درد کے شب کرتا تھا مذکور ترا وہ ہی بیمار ترا خستۂ و رنجور ترا بے خبر اب بھی شتابی سے پہنچ ڈرتا ہوں کشتۂ ہجر نہ ہو یہ کہیں مہجور ترا یہ نہ آنے کے بہانے ہیں سبھی ورنہ میاں اتنا تو گھر سے مرے کچھ نہیں گھر دور ترا نیچی نظروں سے تری ڈرتا ہوں کیا کچھ نہ کریں دیکھ لینا تو یہاں ...

مزید پڑھیے

صبا کہیو زبانی میری ٹک اس سرو قامت کو

صبا کہیو زبانی میری ٹک اس سرو قامت کو کہ جب سے دل لیا آئے نہ پھر صاحب سلامت کو مرے رونے کو سن کر یوں لگا جھنجھلا کے وہ کہنے میاں یہ جان کھانا ہے اٹھا دو اس ملامت کو جو ملنا ہے تو آ جاؤ گلے سے لگ کے سو رہئے نہیں تو کام کیا آؤ گے اے صاحب قیامت کو اٹھائے سو طرح کے ظلم اور جور و جفا ...

مزید پڑھیے

یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے

یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے جانب شہر فقیروں کی طرح کوہ گراں پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے جل اٹھیں روح کے گھاؤ تو چھڑک دیتا ہوں چاندنی میں تری یادوں کی مہک حل کر کے دل وہ مجذوب مغنی کہ جلا دیتا ہے ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر ...

مزید پڑھیے

یا ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

یا ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا یا حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ہم راہ رقیبوں کے تجھے باغ میں سن کر دل دینے کا ثمرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کہتا ہے بہت کچھ وہ مجھے چپکے ہی چپکے ظاہر میں یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کہتا ہے تو کچھ یا نہیں آصفؔ سے یہ تو جان یاں کس کو ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا

آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا یہ خو بری ہے ان کا افشائے راز کرنا جاتے تو ہو پیارے اکتا کے مجھ کنے سے پر واسطے خدا کے پھر سرفراز کرنا دو چار دن میں ظالم ہووے گی خط کی شدت یہ حسن عارضی ہے اس پر نہ ناز کرنا پھرتے ہو تم ہر اک جا ہم بھی تو آشنا ہیں یاں بھی کرم کبھی اے بندہ نواز ...

مزید پڑھیے

وحشت میں سوئے دشت جو یہ آہ لے گئی

وحشت میں سوئے دشت جو یہ آہ لے گئی کیا کیا کنوئیں جھکانے تری چاہ لے گئی آئے کبھی نہ راہ پہ کیا جانیے ہمیں کیدھر کو یہ طبیعت گمراہ لے گئی کعبے میں بھی گئے تو ہمیں تیری یاد آہ پھر سوئے دیر اے بت دل خواہ لے گئی اس نے کہاں بلایا تھا یہ اس کے گھر ہمیں ناحق زبان خلق کی افواہ لے ...

مزید پڑھیے

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا پر ڈرتے ہوئے لے جو وہاں نام ہمارا کیا تاب ہے جو سامنے ٹھہرے کوئی اس کے آفت ہے غضب ہے وہ دل آرام ہمارا آغاز نے تو عشق کے یہ حال دکھایا اب دیکھیے کیا ہووے گا انجام ہمارا اے چرخ اسی طرح تو گردش میں رہے گا پر تجھ سے نہ نکلے گا کبھو کام ہمارا اے پیر ...

مزید پڑھیے

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا بے وفا تجھ سے سے میں نے کیا نہ کیا غم دوری کو تیری دیکھ کے یار آج تک جان سے جدا نہ کیا فائدہ کیا ہے اب بگڑنے کا کون تھا جس سے تو ملا نہ کیا یہ ہمیں تھے کہ ان جفاؤں پر پھر کبھی تجھ ستی گلا نہ کیا کون سی شب تھی ہجر کی آصفؔ کہ یہ دل شمع ساں جلا نہ کیا

مزید پڑھیے
صفحہ 3903 سے 4657