ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے
ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے تو آ کے مل نہ مل یہ ترا اختیار ہے جس جس کے پاس دوستو جس جس کا یار ہے بہتر چمن سے گھر میں اسی کے بہار ہے تم زخم دل کی میرے خبر پوچھتے ہو کیا تیر نگاہ دل کے تو اب وار پار ہے گر دشمنی پہ دوست نے باندھی مرے کمر دشمن ہے اب جو کوئی مرا دوست دار ہے لگتی ...