یہ اشک چشموں میں ہم دم رہے رہے نہ رہے
یہ اشک چشموں میں ہم دم رہے رہے نہ رہے حباب دار کوئی دم رہے رہے نہ رہے تو اپنے شیوۂ جور و جفا سے مت گزرے تری بلا سے مرا دم رہے رہے نہ رہے پھبا ہے رخ پہ ترے خوش نما صنم لیکن ہمیشہ گل پہ یہ شبنم رہے رہے نہ رہے
یہ اشک چشموں میں ہم دم رہے رہے نہ رہے حباب دار کوئی دم رہے رہے نہ رہے تو اپنے شیوۂ جور و جفا سے مت گزرے تری بلا سے مرا دم رہے رہے نہ رہے پھبا ہے رخ پہ ترے خوش نما صنم لیکن ہمیشہ گل پہ یہ شبنم رہے رہے نہ رہے
نامہ ترا میں لے کر منہ دیکھ رہ گیا تھا کیا جانیے کہ قاصد کیا مجھ کو کہہ گیا تھا کوچے سے اپنے تو نے مجھ کو عبث اٹھایا سب تو چلے گئے تھے اک میں ہی رہ گیا تھا پہلے جو آنسو دیکھا لوہو سا لال تم نے ناصح وہ دل ہمارا خوں ہو کے بہہ گیا تھا کچھ بھی نہ سوجھتا تھا اس بن مجھے تو آصفؔ جس دن ستی ...
دام الفت میں پھنسا دل ہائے دل افسوس دل اب نہ ہووے گا رہا دل ہائے دل افسوس دل وہ اسے کیا کیا کہے اور یہ سرکتا ہی نہیں ہو گیا یوں بے حیا دل ہائے دل افسوس دل ملتے ہی ظالم نے مجھ کو چھوڑ کر یوں یک بیک ہو گیا مجھ سے جدا دل ہائے دل افسوس دل آہ و نالے کی صدا بھی اب تو آنے سے رہی مر گیا ...
بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے اور منہ چھپا کے چلنا شرط وفا نہیں ہے زلفوں کو شانہ کیجے یا بھوں بنا کے چلیے گر پاس دل نہ رکھیے تو یہ ادا نہیں ہے اک روز وہ ستم گر مجھ سے ہوا مخاطب میں نے کہا کہ پیارے اب یہ روا نہیں ہے مرتے ہیں ہم تڑپتے پھرتے ہو تم ہر اک جا جانا کہ تم کو ہم سے کچھ ...
اس ادا سے مجھے سلام کیا ایک ہی آن میں غلام کیا لے گیا ننگ و نام اب مجھ سے عشق نے آخر اپنا کام کیا یارو اس گل بدن کے تئیں ہم نے کل صبا سے یہی پیام کیا ہم سے ملتے رہا کرو پیارے چاہ میں گرچہ اپنا نام کیا قصۂ جاں گداز اے آصفؔ تھوڑی سی بات میں تمام کیا
پوچھتے کیا ہو مرے تم دل دیوانے سے عشق کے رمز کو پوچھو کسی فرزانے سے جی نکل جاوے گا ظالم مرا اب جانے سے یاں نہ آنا ہی بھلا تھا ترے اس آنے سے روز کے دکھ سے چھٹا رات کے جلنے سے رہا دوستی شمع نے کی دوستو پروانے سے دل بجا لاوے گا جو کچھ اسے کیجے ارشاد یہ تو باہر نہیں کچھ آپ کے فرمانے ...
جب سے میرے دل میں آ کر عشق کا تھانا ہوا ہوش و صبر و عقل و دیں کیا سب سے بیگانہ ہوا دل ہمارا خانۂ اللہ گر مشہور تھا سو بتوں کے عشق میں اب یہ بھی بت خانہ ہوا قصۂ فرہاد و مجنوں رات دن پڑھتے تھے ہم سو تو وہ ماضی پڑا اب اپنا افسانہ ہوا رات دن یہ سوچ رہتا ہے مرے دل کے تئیں اے خدا یاں سے ...
شکل اس کی کسی صورت سے جو دکھلائے ہمیں دوست ایسا نہیں ملتا ہے کوئی ہائے ہمیں بن بلائے جو سدا آپ چلا آتا تھا اب یہ نفرت اسے آئی کہ نہ بلوائے ہمیں فائدہ کیا ہے نصیحت سے پھرے ہو ناصح ہم سمجھنے کے نہیں لاکھ تو سمجھائے ہمیں
مرے دل کو زلفوں کی زنجیر کیجو یہ دیوانہ اپنا ہے تدبیر کیجو ہمیں قتل ہے یا ہے اب قید ظالم جو کچھ تجھ سے ہووے نہ تقصیر کیجو مرے دل نے زلفوں میں مسکن کیا ہے یہ مہمان ہے آئے توقیر کیجو جلالی تو ہے آہ تو آسماں تک ٹک اک اس کے دل میں بھی تاثیر کیجو یہ آصفؔ تمہارا ہے اے بندہ پرور اسے ہر ...
کیا فاش کروں غم نہاں کو پایاں نہیں میری داستاں کو قصے کو نہ پوچھو میرے ہرگز یارا ہی نہیں دل و زباں کو درپئے ہیں نصیحتوں کے یا رب سمجھاؤں میں کیوں کے دوستاں کو گو ہم نے سلایا جیب و داماں کیا کیجئے گا چشم خوں فشاں کو ہو گر نہ وہ شمع رو ہی تو پھر کیا آگ لگاؤں دود ماں کو گزرا ...