شاعری

دیار ہجر میں خود کو تو اکثر بھول جاتا ہوں

دیار ہجر میں خود کو تو اکثر بھول جاتا ہوں تجھے بھی میں تری یادوں میں کھو کر بھول جاتا ہوں عجب دن تھے کہ برسوں ضرب خوشبو یاد رہتی تھی عجب دن ہیں کہ فوراً زخم خنجر بھول جاتا ہوں گزر جاتا ہوں گھر کے سامنے سے بے خیالی میں کبھی دفتر کے دروازے پہ دفتر بھول جاتا ہوں اسی باعث بڑی چاہت ...

مزید پڑھیے

ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں

ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں بچھڑ کے ہم نے کئی رات دن گزارے ہیں ہنوز سینے کی چھوٹی سی قبر خالی ہے اگرچہ اس میں جنازے کئی اتارے ہیں وہ کوئلے سے مرا نام لکھ چکا تو اسے سنا ہے دیکھنے والوں نے پھول مارے ہیں یہ کس بلا کی زباں آسماں کو چاٹ گئی کہ چاند ہے نہ کہیں کہکشاں نہ تارے ...

مزید پڑھیے

وہی خوابیدہ خاموشی وہی تاریک تنہائی

وہی خوابیدہ خاموشی وہی تاریک تنہائی تمہیں پا کر بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اگر جاں سے گزر جاؤں تو میں اوپر ابھر آؤں کہ لاشوں کو اگل دیتی ہے دریاؤں کی گہرائی کھڑا ہے دشت ہستی میں اگرچہ نخل جاں لیکن گل گویائی باقی ہے نہ کوئی برگ بینائی محبت میں بھی دل والے سیاست کر گئے ...

مزید پڑھیے

سوچ کی الجھی ہوئی جھاڑی کی جانب جو گئی

سوچ کی الجھی ہوئی جھاڑی کی جانب جو گئی آس کی رنگین تتلی خوں کا چھینٹا ہو گئی اس کی خوشبو تھی مری آواز تھی کیا چیز تھی جو دریچہ توڑ کر نکلی فضا میں کھو گئی آخر شب دور کہساروں سے برفانی ہوا شہر میں آئی مرے کمرے میں آ کر سو گئی چند چھلکوں اور اک بوڑھی بھکارن کے سوا ریل گاڑی آخری ...

مزید پڑھیے

سینے میں سلگتے ہوئے لمحات کا جنگل

سینے میں سلگتے ہوئے لمحات کا جنگل کس طرح کٹے تاروں بھری رات کا جنگل ہاں دست شناسی پہ بڑا ناز تھا اس کو دیکھا نہ گیا اس سے مرے ہات کا جنگل امید کا اک پیڑ اگائے نہیں اگتا خود رو ہے مگر ذہن میں شبہات کا جنگل دے طاقت پرواز کہ اوپر سے گزر جاؤں کیوں راہ میں حائل ہے مری ذات کا ...

مزید پڑھیے

آرزوئے‌ دوام کرتا ہوں

آرزوئے‌ دوام کرتا ہوں زندگی وقف عام کرتا ہوں آپ سے اختلاف ہے لیکن آپ کا احترام کرتا ہوں مجھ کو تقریب سے تعلق کیا میں فقط اہتمام کرتا ہوں درس و تدریس عشق مزدوری جو بھی مل جائے کام کرتا ہوں جستجو ہی مرا اثاثہ ہے جا اسے تیرے نام کرتا ہوں ہاں مگر برگ زرد کی صورت صبح کو میں بھی ...

مزید پڑھیے

صرف میرے لیے نہیں رہنا

صرف میرے لیے نہیں رہنا تم مرے بعد بھی حسیں رہنا پیڑ کی طرح جس جگہ پھوٹا عمر بھر ہے مجھے وہیں رہنا مشغلہ ہے شریف لوگوں کا صورت مار آستیں رہنا دلی اجڑی اداس بستی میں چاہتے تھے کئی مکیں رہنا مر نہ جائے تمہاری پھلواری قریۂ زخم کے قریں رہنا مسکراتا ہوں عادتاً اسلمؔ کون سمجھے مرا ...

مزید پڑھیے

زخم سہے مزدوری کی

زخم سہے مزدوری کی سانس کہانی پوری کی جذبے کی ہر کونپل کو آگ لگی مجبوری کی چپ آیا چپ لوٹ گیا گویا بات ضروری کی اس کا نام لبوں پر ہو ساعت ہو منظوری کی کتنے سورج بیت گئے رت نہ گئی بے نوری کی پاس ہی کون تھا اسلمؔ جو کریں شکایت دوری کی

مزید پڑھیے

جب میں اس کے گاؤں سے باہر نکلا تھا

جب میں اس کے گاؤں سے باہر نکلا تھا ہر رستے نے میرا رستہ روکا تھا مجھ کو یاد ہے جب اس گھر میں آگ لگی اوپر سے بادل کا ٹکڑا گزرا تھا شام ہوئی اور سورج نے اک ہچکی لی بس پھر کیا تھا کوسوں تک سناٹا تھا میں نے اپنے سارے آنسو بخش دیے بچے نے تو ایک ہی پیسہ مانگا تھا شہر میں آ کر پڑھنے ...

مزید پڑھیے

طالب ہو وہاں آن کے کیا کوئی صنم کا

طالب ہو وہاں آن کے کیا کوئی صنم کا ہو جس کو بھروسہ نہ جہاں ایک بھی دم کا کیا میں تجھے احوال دل و جاں کا بتاؤں اب میں تو ارادہ کیے بیٹھا ہوں عدم کا کی لاکھوں ہیں تدبیر میاں ہم نے وہ لیکن چھوٹا نہ یہ دل باندھا ہوا زلف کے خم کا یا وصل ہو یا موت کوئی طرح تو ہووے کب تک رہوں پامال میں اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3901 سے 4657