شاعری

لبوں پر تشنگی آنکھوں میں ہے برسات کا عالم

لبوں پر تشنگی آنکھوں میں ہے برسات کا عالم کہ تنہا کیسے گزرے گا بتا جذبات کا عالم سفر خوشبو بنے اور راستے آسان ہو جائیں نگاہوں میں سما جائے جو تیری ذات کا عالم بلندی پر کھڑے ہو کر میاں حیران سے کیوں ہو سمجھ میں آ گیا شاید انوکھی مات کا عالم جدا ہونا رگ جاں سے بھلا آسان ہی کب ...

مزید پڑھیے

بدل دیے ہیں مکمل نصاب اب کے سے

بدل دیے ہیں مکمل نصاب اب کے سے پڑھی ہے درد کی ایسی کتاب اب کے سے کہا ہے باد صبا نے کہ بے قرار ہیں وہ چلو کہ کوئی تو آیا جواب اب کے سے گھٹن یہ سینے کی گھٹتی نظر نہیں آتی جڑے ہیں کیسے نہ جانے حساب اب کے سے یہ کون پوچھے گا ہم سے کہاں کسے فرصت جو دریا دل تھے ہوئے کیوں سراب اب کے ...

مزید پڑھیے

کرب جدائی آنکھوں میں آنے نہیں دیا

کرب جدائی آنکھوں میں آنے نہیں دیا بیکار آنسوؤں کو بھی جانے نہیں دیا میں نے نکل کے خود سے بنایا تجھے خدا تو نے عقیدتوں کو نبھانے نہیں دیا کچھ دان مانگ لیتا مگر رات دل نے بھی سوئی ہوئی پری کو جگانے نہیں دیا ہوتی قبول اس کے سوا کس کی رہبری دل نے ہی انقلاب اٹھانے نہیں دیا آنکھیں ...

مزید پڑھیے

دل پر خوں کو یادوں سے الجھتا چھوڑ دیتے ہیں

دل پر خوں کو یادوں سے الجھتا چھوڑ دیتے ہیں ہم اس وحشی کو جنگل میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں نہ جانے کب کوئی بھیگے ہوئے منظر میں آ نکلے دیار اشک میں پلکیں جھپکنا چھوڑ دیتے ہیں اسے بھی دیکھنا ہے اپنا معیار‌ پذیرائی چلا آئے تو کیا کہنا تقاضا چھوڑ دیتے ہیں غموں کی بھیڑ جب بھی قریۂ جاں ...

مزید پڑھیے

قریب آ کے بھی اک شخص ہو سکا نہ مرا

قریب آ کے بھی اک شخص ہو سکا نہ مرا یہی ہے میری حقیقت یہی فسانہ مرا یہ اور بات کہ مجھ کو نہ مل سکا اب تک ترے جہاں میں کہیں ہے سہی ٹھکانہ مرا چراغ کہنے لگا پھر ہوا کے جھونکے سے یہ اہتمام تو اے دوست ہے ترا نہ مرا سو اب تو بزم تمنا میں طائرانہ چہک! ترے دماغ پہ ہلکا سا بوجھ تھا نہ ...

مزید پڑھیے

غم کی سوغات ہے خموشی ہے

غم کی سوغات ہے خموشی ہے چاندنی رات ہے خموشی ہے میں اکیلا نہیں کہ باتیں ہوں وہ مرے سات ہے خموشی ہے میری بربادیوں کی سازش میں ضبط کا ہات ہے خموشی ہے کیسا آسیب ہے کہ ہر جانب جشن جذبات ہے خموشی ہے وقت کے زخم زخم ہونٹوں پر ان کہی بات ہے خموشی ہے پھر اسی طرح گرم ماتھے پر کانپتا ہاتھ ...

مزید پڑھیے

جب بھی ہنسی کی گرد میں چہرہ چھپا لیا

جب بھی ہنسی کی گرد میں چہرہ چھپا لیا بے لوث دوستی کا بڑا ہی مزا لیا اک لمحۂ سکوں تو ملا تھا نصیب سے لیکن کسی شریر صدی نے چرا لیا کانٹے سے بھی نچوڑ لی غیروں نے بوئے گل یاروں نے بوئے گل سے بھی کانٹا بنا لیا اسلمؔ بڑے وقار سے ڈگری وصول کی اور اس کے بعد شہر میں خوانچہ لگا لیا

مزید پڑھیے

جب دل ہی نہیں باقی وہ آتش پارا سا

جب دل ہی نہیں باقی وہ آتش پارا سا کیوں رقص میں رہتا ہے پلکوں پہ شرارا سا وہ موج ہمیں لے کر گرداب میں جا نکلی جس موج میں روشن تھا سرسبز کنارا سا تارا سا بکھرتا ہے آکاش سے یا کوئی ٹھہرے ہوئے آنسو کو کرتا ہے اشارا سا تنکوں کی طرح ہر شب تن من کو بہا لے جائے اک برسوں سے بچھڑی ہوئی ...

مزید پڑھیے

بھیگے شعر اگلتے جیون بیت گیا

بھیگے شعر اگلتے جیون بیت گیا ٹھنڈی آگ میں جلتے جیون بیت گیا یوں تو چار قدم پر میری منزل تھی لیکن چلتے چلتے جیون بیت گیا شام ڈھلے اس کو ندیا پر آنا تھا سورج ڈھلتے ڈھلتے جیون بیت گیا ایک انوکھا سپنا دیکھا نیند اڑی آنکھیں ملتے ملتے جیون بیت گیا آخر کس بہروپ کو اپنا روپ ...

مزید پڑھیے

زلزلے کا خوف طاری ہے در و دیوار پر

زلزلے کا خوف طاری ہے در و دیوار پر جبکہ میں بیٹھا ہوا ہوں کانپتے مینار پر ہاں اسی رستے میں ہے شہر نگار آرزو آپ چلتے جائیے میرے لہو کی دھار پر پھر اڑا لائی ہوا مجھ کو جلانے کے لیے زرد پتے چند سوکھی ٹہنیاں دو چار پر طائر تخئیل کا سارا بدن آزاد ہے صرف اک پتھر پڑا ہے شیشۂ منقار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3900 سے 4657