شاعری

ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی

ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی دیوان میرؔ کا ہے کورے گھڑے کا پانی اپلوں کی آگ اب تک ہاتھوں سے جھانکتی ہے آنکھوں میں جاگتا ہے کورے گھڑے کا پانی جب مانگتے ہیں سارے انگور کے شرارے اپنی یہی صدا ہے کورے گھڑے کا پانی کاغذ پہ کیسے ٹھہریں مصرعے مری غزل کے لفظوں میں بہہ رہا ہے کورے ...

مزید پڑھیے

نظر کو وقف حیرت کر دیا ہے

نظر کو وقف حیرت کر دیا ہے اسے بھی دل سے رخصت کر دیا ہے برائے نام تھا آرام جس کو غزل کہہ کر مصیبت کر دیا ہے سمجھتے ہیں کہاں پتھر کسی کی مگر اتمام حجت کر دیا ہے گلی کوچوں میں جلتی روشنی نے حسیں شاموں کو شامت کر دیا ہے بصیرت ایک دولت ہی تھی آخر سو دولت کو بصیرت کر دیا ہے کئی ہمدم ...

مزید پڑھیے

کسی کی دوری کا احساس کیوں دلاتی ہے

کسی کی دوری کا احساس کیوں دلاتی ہے عجب ہے چاندنی مجھ کو بہت ستاتی ہے میں اس خیال سے تنہا سفر پہ نکلا ہوں کبھی تو راہ بھی خود راستہ دکھاتی ہے کسی کا لہجہ کوئی بات چھوٹی سادہ سی کبھی کبھی تو بہت درد دے کے جاتی ہے میں تیرے خواب لئے رات بھر ٹہلتا ہوں مجھے بتا کہ تجھے کیسے نیند آتی ...

مزید پڑھیے

کچھ آرزو کے خواب دکھانے لگی ہوا

کچھ آرزو کے خواب دکھانے لگی ہوا پانی کے زندگی کو ستانے لگی ہوا ہم بھی ہوئے شکار ہیں اظہار عشق کے جب گیسوؤں کے خم کو دکھانے لگی ہوا باد صبا تمہاری مہک لے کے آ گئی روٹھے ہوئے دلوں کو منانے لگی ہوا لیلیٰ و قیس ہم کو کہنے لگے ہیں لوگ رسوائیوں کو نام بتانے لگی ہوا دل کی منڈیر کا یہ ...

مزید پڑھیے

دل کی باتیں دل سے کرنا اتنا بھی آسان نہیں

دل کی باتیں دل سے کرنا اتنا بھی آسان نہیں خود کی خاطر خود میں رہنا اتنا بھی آسان نہیں پل جو گزرے تیری خاطر مدہوشی کے عالم میں خاموشی میں سنتے رہنا اتنا بھی آسان نہیں ہجر کی شب جب چاند کو دیکھا تو مجھ کو محسوس ہوا اپنے آپ میں تل تل مارنا اتنا بھی آسان نہیں آپ وفا کے پیکر تھے ہم ...

مزید پڑھیے

زندگی ہو مری نظر میں ہو

زندگی ہو مری نظر میں ہو ہو دواؤں میں چشم تر میں ہو جب بھی لکھا ہے تم کو لکھا ہے تم ہی لفظوں میں ہو سطر میں ہو تم ہی محور ہو ہر تخیل کا میر و غالب میں ہو ظفر میں ہو تم فضاؤں میں رقص کرتی ہو کو بہ کو پھیلتی خبر میں ہو اب زمانے سے کیا چھپاؤں میں تم تو مہتاب ہو نظر میں ہو میری قسمت ...

مزید پڑھیے

خودی میں ڈوب کے خود سے کبھی ملے ہو کیا

خودی میں ڈوب کے خود سے کبھی ملے ہو کیا ہجوم یاراں میں تنہا کبھی ہوئے ہو کیا نہ جانے کس لئے دنیا کا رونا روتے ہو مزاج اس کے نہیں جانتے نئے ہو کیا خطرہ بھٹکنے کا رہتا ہے جس روش پہ بہت تم اس روش پہ کبھی دور تک گئے ہو کیا وہ جس پہ مجھ کو شکایات نہیں رہی تم سے اس ایک بات پہ مجھ سے خفا ...

مزید پڑھیے

فصیل ذات پر اترا رہا ہوں

فصیل ذات پر اترا رہا ہوں زمانے سے بچھڑتا جا رہا ہوں میں پتھر کے نئے پیکر بنا کر بہ شکل موم ڈھلتا جا رہا ہوں وہ اک چہرہ وہ پلکیں اور تبسم غزل کو اس کی لے پہ گا رہا ہوں تصور میں کسی سے بات کر کے لب و لہجے پہ اس کے چھا رہا ہوں اڑانوں سے ابھی غافل ہوں اپنی زمیں کو آسماں بتلا رہا ...

مزید پڑھیے

خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے

خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے شکایتوں کے لئے رخ نکال لایا ہے یہ کہہ کے اس نے مجھے حیرتوں میں ڈال دیا وہ میرے بیتے ہوئے ماہ و سال لایا ہے ذرا سی دیر میں صدیوں کا بن گیا ضامن یہ کس مزاج کا حرف کمال لایا ہے اب اس کے آگے تمہیں حیرتیں بتاؤں بھی کیا خوشی کا لمحہ بھی رنج و ملال لایا ...

مزید پڑھیے

موج غم حیات شرابور کر گئی

موج غم حیات شرابور کر گئی خاموش دھڑکنوں میں بڑا شور کر گئی بے خود سا ہو گیا تھا میں رقص و سرور میں اور اس کی ہم نوائی مجھے مور کر گئی میں ہو کے با وفا بھی تو اک بے وفا رہا نظروں میں میری مجھ کو ہی وہ چور کر گئی سمٹی سی لڑکی دے گئی پیغام آخرش نازک کلائی اس کی بھی کچھ زور کر گئی مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3899 سے 4657