ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی
ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی دیوان میرؔ کا ہے کورے گھڑے کا پانی اپلوں کی آگ اب تک ہاتھوں سے جھانکتی ہے آنکھوں میں جاگتا ہے کورے گھڑے کا پانی جب مانگتے ہیں سارے انگور کے شرارے اپنی یہی صدا ہے کورے گھڑے کا پانی کاغذ پہ کیسے ٹھہریں مصرعے مری غزل کے لفظوں میں بہہ رہا ہے کورے ...