اسیر زندگانی میں نہیں ہوں
اسیر زندگانی میں نہیں ہوں بدن ہوتا ہے فانی میں نہیں ہوں جہاں کی بد گمانی میں نہیں ہوں خود اپنی خوش بیانی میں نہیں ہوں مرا دعویٰ نہیں ہے اس کھنڈر پر یہ مٹی اور پانی میں نہیں ہوں اگر پاتے ہو میرا دخل خود میں یہاں بس تم ہو یعنی میں نہیں ہوں گماں ہے بس ہنسی ہو یا کہ آنسو یہ سکھ دکھ ...