شاعری

وقت کا کچھ رکا سا دھارا ہے

وقت کا کچھ رکا سا دھارا ہے تم نے شاید مجھے پکارا ہے تم نہ آؤ گے یہ بھی ہے معلوم چند یادوں کا بس سہارا ہے ان کی یادوں کے چند پھولوں سے چمن تازہ دل ہمارا ہے آج ہم نے تو دے کے جاں اپنی زندگی تیرا قرض اتارا ہے ان کی نظروں نے زخم دل کو مرے مندمل کر کے پھر ابھارا ہے لوگ کہتے ہیں اس کو ...

مزید پڑھیے

عجیب شخص ہے مجھ کو تو وہ دوانہ لگے

عجیب شخص ہے مجھ کو تو وہ دوانہ لگے پکارتا ہوں تو اس کو مری صدا نہ لگے گزر رہا ہے مرے سر سے جو ہوا کی طرح کبھی کبھی تو وہی لمحہ اک زمانہ لگے گلی میں جس پہ ہر اک سمت سے چلے پتھر مجھے وہ شخص کسی طرح بھی برا نہ لگے مزاج اس نے بھی کیسا عجیب پایا ہے ہزار چھیڑ کروں پر اسے برا نہ ...

مزید پڑھیے

ہر سو دھوئیں کا رقص ہے آج اپنے گاؤں میں

ہر سو دھوئیں کا رقص ہے آج اپنے گاؤں میں جلتے لہو کی بو ہے سسکتی ہواؤں میں منظر کو دیکھتے ہی وہ بے ہوش ہو گیا جھانکا جو اس نے روح کی اندھی گپھاؤں میں بستر پہ پچھلی رات عجب ماجرا ہوا آنکھیں تھیں بند اڑتا رہا میں خلاؤں میں ساحل کی ریت پر میں کھڑا سوچتا رہا الجھا تھا میرا ذہن ندی کی ...

مزید پڑھیے

کہیں پہ قرب کی لذت کا اقتباس نہیں

کہیں پہ قرب کی لذت کا اقتباس نہیں ترے خیال کی خوشبو بھی آس پاس نہیں ہزار بار نگاہوں سے چوم کر دیکھا لبوں پہ اس کے وہ پہلی سی اب مٹھاس نہیں سجا کے بوتلیں ٹیبل پہ منتظر ہوں مگر قریب و دور نگاہوں کے وہ گلاس نہیں سمندروں کا یہ نمکین پانی کیسے پیوں پیاسا ہوں مگر اتنی زیادہ پیاس ...

مزید پڑھیے

وہ کیا ہے کون ہے یہ تو ذرا بتا مجھ کو

وہ کیا ہے کون ہے یہ تو ذرا بتا مجھ کو کہ جس نے سنگ میں تبدیل کر دیا مجھ کو میں کھو نہ جاؤں کہیں دشت نامرادی میں تو اپنی آنکھوں کی آغوش میں چھپا مجھ کو کسی طرح نہ طلسم سکوت ٹوٹ سکا وہ دے رہا تھا بہت دور سے صدا مجھ کو میں دوسروں کی ملامت کا بوجھ سہہ لوں گا مگر تو اپنی نظر سے نہ یوں ...

مزید پڑھیے

کوئی دیوار سلامت ہے نہ اب چھت میری

کوئی دیوار سلامت ہے نہ اب چھت میری خانۂ خستہ کی صورت ہوئی حالت میری میرے سجدوں سے منور ہے تری راہ گزر میری پیشانی پہ روشن ہے صداقت میری اور کچھ دیر یوں ہی مجھ کو تڑپنے دیتے آپ نے چھین لی کیوں ہجر کی لذت میری یہ الگ بات کہ میں فاتح اعظم ٹھہرا ورنہ ہوتی رہی ہر گام ہزیمت ...

مزید پڑھیے

لباس گل میں وہ خوشبو کے دھیان سے نکلا

لباس گل میں وہ خوشبو کے دھیان سے نکلا مرا یقین بھی وہم و گمان سے نکلا ہمارے ساتھ ہی اب آندھیاں بھی چلتی ہیں یہ طرز ہم سفری بادبان سے نکلا کچھ اس طرح سے بندھے ہیں زمیں کی ڈور سے ہم کہ خوف گم رہی اونچی اڑان سے نکلا نقیب میں ڈھونڈھ رہا تھا فصیل شب میں مگر مرا غنیم مرے ہی مکان سے ...

مزید پڑھیے

آرزو پیکر و اصنام سے خالی نکلی

آرزو پیکر و اصنام سے خالی نکلی میں نے حسرت بھی نکالی تو خیالی نکلی آج سورج بھی دیا ہاتھ میں لے کر نکلا کوچۂ شب سے سحر بھی مری کالی نکلی جبر تقدیر سے ڈر جاتے تو مر ہی جاتے جب بھی جینے کی کوئی راہ نکالی نکلی اجنبی شہر میں اک دشت تمنا لے کر کاسۂ چشم سے بینائی سوالی نکلی تیری ٹوٹی ...

مزید پڑھیے

خون اتر آیا دل کے چھالوں میں

خون اتر آیا دل کے چھالوں میں بن رہے تھے محل خیالوں میں جاگتے جاگتے چڑھا سورج آنکھ دکھنے لگی اجالوں میں پنچھیوں ہجرتوں کی رت آئی برف جمنے لگی ہے بالوں میں بھوک نے کھینچ دی ہیں دیواریں ہم نوالوں میں ہم پیالوں میں مرثیہ اس صدی کا لکھنا ہے اور دو تین چار سالوں میں بجنے والی ہے ...

مزید پڑھیے

دیواروں کو دل سے باہر رکھنے والے

دیواروں کو دل سے باہر رکھنے والے ہم بنجارے کاندھے پر گھر رکھنے والے کوچ کا جب بھی گجر بجے اٹھ کر چل دیں گے بندھا ہوا ہم اپنا بستر رکھنے والے کیسی پروازیں کیسی آزاد فضائیں کنج قفس میں خوش ہیں شہ پر رکھنے والے آنچ سے جگنو کی چٹانیں سلگ رہی ہیں شعلے اگلیں موم کا پیکر رکھنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3897 سے 4657