چمن والا جو انداز چمن کا قدرداں رہتا
چمن والا جو انداز چمن کا قدرداں رہتا نہ پھولوں پر جفا ہوتی نہ زد میں آشیاں رہتا بہاریں مسکراتیں مہرباں گر باغباں رہتا چمن کی ڈالی ڈالی پر ہمارا آشیاں رہتا اصول مے کشی سب سیکھ لیتا جام و مینا سے جو واعظ بھی شریک حلقۂ پیر مغاں رہتا چمک اٹھتا مقدر ساتھ دیتی نارسا قسمت جو فردوس ...