شاعری

چمن والا جو انداز چمن کا قدرداں رہتا

چمن والا جو انداز چمن کا قدرداں رہتا نہ پھولوں پر جفا ہوتی نہ زد میں آشیاں رہتا بہاریں مسکراتیں مہرباں گر باغباں رہتا چمن کی ڈالی ڈالی پر ہمارا آشیاں رہتا اصول مے کشی سب سیکھ لیتا جام و مینا سے جو واعظ بھی شریک حلقۂ پیر مغاں رہتا چمک اٹھتا مقدر ساتھ دیتی نارسا قسمت جو فردوس ...

مزید پڑھیے

وہی حسرتیں وہی آرزو مری زندگی میں خوشی نہیں

وہی حسرتیں وہی آرزو مری زندگی میں خوشی نہیں تری چشم ناز کو کیا کہوں مرے سوز غم میں کمی نہیں نہ نسیم ہے نہ بہار ہے نہ گلوں میں اب ہے شگفتگی ہے اداسیوں کا عجب سماں کہ کسی کے لب پہ ہنسی نہیں میں ہوں مشکلوں میں گھرا ہوا ترے در سے دور پڑا ہوا تری یاد سے ہوں ضرور خوش کوئی اور وجہ خوشی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے میں نے چکھ لیا موسم کے زہر کو

آنکھوں سے میں نے چکھ لیا موسم کے زہر کو لیکن وجود سہہ نہ سکا اس کے قہر کو پھینکا تھا کس نے سنگ ہوس رات خواب میں پھر ڈھونڈھتی ہے نیند اسی پچھلے پہر کو مٹی کے سب مکان زمیں دوز ہو گئے نقشے میں اب تلاش کرو اپنے شہر کو دریائے شب کا ٹوٹ گیا ہے سکوت آج مدت کے بعد دیکھ کے کرنوں کی نہر ...

مزید پڑھیے

راستہ سنسان تھا تو مڑ کے دیکھا کیوں نہیں

راستہ سنسان تھا تو مڑ کے دیکھا کیوں نہیں مجھ کو تنہا دیکھ کر اس نے پکارا کیوں نہیں دھوپ کی آغوش میں لیٹا رہا میں عمر بھر مہرباں تھا وہ تو مثل ابر آیا کیوں نہیں ایک پنچھی دیر تک ساحل پہ منڈلاتا رہا مضطرب تھا پیاس سے لیکن وہ اترا کیوں نہیں قرب کی قوس قزح کمرے میں بکھری تھی ...

مزید پڑھیے

کشت دل ویراں سہی تخم ہوس بویا نہیں

کشت دل ویراں سہی تخم ہوس بویا نہیں خواہشوں کا بوجھ میں نے آج تک ڈھویا نہیں اس کی آنکھوں میں بچھا ہے سرخ تحریروں کا جال ایسا لگتا ہے کہ اک مدت سے وہ سویا نہیں خواب کی انجان کھڑکی میں نظر آیا تھا جو ذہن نے اس چہرۂ مانوس کو کھویا نہیں ایک مدت پر ملے بھی تو نہ ملنے کی طرح اس طرح ...

مزید پڑھیے

یادوں کا لمس ذہن کو چھو کر گزر گیا

یادوں کا لمس ذہن کو چھو کر گزر گیا نشتر سا میرے جسم میں جیسے اتر گیا موجوں کا شور مجھ کو ڈراتا رہا مگر پانی میں پاؤں رکھتے ہی دریا اتر گیا پیروں پہ ہر طرف ہی ہواؤں کا رقص تھا اب سوچتا ہوں آج وہ منظر کدھر گیا دو دن میں خال و خط مرے تبدیل ہو گئے آئینہ دیکھتے ہی میں اپنے سے ڈر ...

مزید پڑھیے

ہماری یاد انہیں آ گئی تو کیا ہوگا

ہماری یاد انہیں آ گئی تو کیا ہوگا گھٹا ادھر کی ادھر چھا گئی تو کیا ہوگا ابھی تو بزم میں قائم ہے دو دلوں کا بھرم نظر نظر سے جو ٹکرا گئی تو کیا ہوگا دھڑک رہا ہے سر شام ہی سے دل کم بخت وصال یار کی صبح آ گئی تو کیا ہوگا یہ سوچتا ہوں کہ دل کی اداس گلیوں سے تمہاری یاد بھی کترا گئی تو کیا ...

مزید پڑھیے

ہر سو ہے تاریکی چھائی تم بھی چپ اور ہم بھی چپ

ہر سو ہے تاریکی چھائی تم بھی چپ اور ہم بھی چپ کس نے ایسی شمع جلائی تم بھی چپ اور ہم بھی چپ کس جانب ہے اپنی منزل دوراہے پر آ پہنچے کس نے ایسی راہ بتائی تم بھی چپ اور ہم بھی چپ دشت تپاں میں جانے کب سے دل نے دی ہیں آوازیں کوئی بھی آواز نہ آئی تم بھی چپ اور ہم بھی چپ راہ کسی کی تکتے ...

مزید پڑھیے

بس ایک بار اسے روشنی میں دیکھا تھا

بس ایک بار اسے روشنی میں دیکھا تھا پھر اس کے بعد اندھیرا بہت اندھیرا تھا وہ حال کا نہیں ماضی کا کوئی قصہ تھا جب اپنے آپ میں میں ٹوٹ کر بکھرتا تھا نہ منزلوں کی طلب میں لہو لہو تھے بدن نہ راستوں کے لئے کوئی آہ بھرتا تھا وہ مجھ کو سونپ گیا منزلوں کی محرومی جو ہر قدم پہ مرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

اڑتے لمحوں کے بھنور میں کوئی پھنستا ہی نہیں

اڑتے لمحوں کے بھنور میں کوئی پھنستا ہی نہیں اس سمندر میں کوئی تیرنے والا ہی نہیں سالہا سال سے ویران ہیں دل کی گلیاں ایک مدت سے کوئی اس طرف آیا ہی نہیں آنکھ کے غار میں ہیں سیکڑوں سڑتی لاشیں جھانک کر ان میں کسی نے کبھی دیکھا ہی نہیں دور تک پھیل گئی ٹوٹتے لمحوں کی خلیج وقت کا سایہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3896 سے 4657