شاعری

گھر کو کیسا بھی تم سجا رکھنا

گھر کو کیسا بھی تم سجا رکھنا کہیں غم کا بھی داخلہ رکھنا گر کسی کو سمجھنا اپنا تم دھوکہ کھانے کا حوصلہ رکھنا اتنی قربت کسی سے مت رکھو کچھ ضروری ہے فاصلہ رکھنا ان کی ہر بات میٹھی ہوتی ہے جھوٹی باتوں کا مت گلہ رکھنا زندگی ایک بار ملتی ہے اس کو جینے کا حوصلہ رکھنا ناامیدی کو کفر ...

مزید پڑھیے

زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھولا نہیں

زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھولا نہیں پھر ترا چپکے سے جانا آج تک بھولا نہیں پڑ کے پیروں پر پرستش کی اجازت چاہنا اور مرا وہ بوکھلانا آج تک بھولا نہیں ہر بشر ہے خود غرض مہر و وفا کچھ بھی نہیں ہم کو تنہا چھوڑ جانا آج تک بھولا نہیں تم ہمارے تھے ہی کب اس کا ہوا احساس جب دل کا سکتے ...

مزید پڑھیے

کسی کی سانس اکھڑتی جا رہی تھی

کسی کی سانس اکھڑتی جا رہی تھی میں لاچاری سے تکتی جا رہی تھی جو پھینکی کنکری تھی قبر پر وہ دعائے خیر کرتی جا رہی تھی ادھر تھا حسن کا انکار پھر بھی طلب موسیٰ کی بڑھتی جا رہی تھی طواف کعبہ کی ایسی خوشی تھی کہ میری سانس رکتی جا رہی تھی زمانے کے ستم سہتے ہوئے بھی زمانیؔ شوق کرتی جا ...

مزید پڑھیے

تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے

تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے بھلے ہی دل کو سمجھایا بہت ہے بہت زخمی کیا ہے دل کو تم نے تمہیں کو پھر بھی اپنایا بہت ہے کھلے رہتے ہیں زخم دل ہمیشہ خزاں نے ظلم تو ڈھایا بہت ہے لب جاناں جو زمزم آتشیں تھا حواسوں پر مرے چھایا بہت ہے لغت میں حسن کی تعریف ڈھونڈھی مگر ہر لفظ کم مایہ بہت ...

مزید پڑھیے

محبت میں تیری وفا چاہتا ہوں

محبت میں تیری وفا چاہتا ہوں وفا تجھ سے او دل ربا چاہتا ہوں نہیں طاقت ضبط یا رب مجھے اب میں احوال دل کا کہا چاہتا ہوں فنا ہو کے راہ محبت میں اے جاں بہ فیض تمنا بقا چاہتا ہوں ذرا دیکھ لو آ کے پہلی نظر سے کہ میں درد دل کچھ سوا چاہتا ہوں بہت غم زدہ ہوں بہت غم زدہ ہوں میں اب ایک درد ...

مزید پڑھیے

دل مست ہے لطف نگہ ناز تو دیکھو

دل مست ہے لطف نگہ ناز تو دیکھو ہے کتنا حسیں عشق کا آغاز تو دیکھو کتنی کشش انگیز ہے آواز تو دیکھو کتنا ہے حسیں حسن کا اعجاز تو دیکھو بجلی ہے کہ سینے میں مرے شعلۂ دل ہے اس کی نگہ ناز کا اعجاز تو دیکھو مسرور ہے سرمایۂ ہستی کو مٹا کر یہ حوصلۂ عاشق جانباز تو دیکھو عاشق کے لئے جان ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ خوش رہو تم اور دعا کیا

ہمیشہ خوش رہو تم اور دعا کیا بجز اس کے فقیروں کی صدا کیا حسینوں کی جفاؤں کا گلہ کیا ستم گاروں سے امید وفا کیا ذرا آنے تو دو فصل بہاراں ابھی ذکر جنون فتنہ زا کیا مزاج حسن سے میں آشنا ہوں نہ پوچھو دل کا میرے مدعا کیا فزوں تر ہو گئے کچھ غم ہمارے بجز اس کے محبت میں ملا کیا شکایت ہے ...

مزید پڑھیے

جان دے کر بھی کچھ بھلا نہ ہوا

جان دے کر بھی کچھ بھلا نہ ہوا یوں بھی حق زیست کا ادا نہ ہوا فرض تھا عاشقی میں مر جانا ہم سے طے یہ بھی مرحلہ نہ ہوا یہ بھی آئین عشق تھا یعنی ان سے میں طالب وفا نہ ہوا تھا زیاں ہی زیاں محبت میں حسن تمکیں سے فائدہ نہ ہوا زندگی بے ثبات تھی اسلمؔ حق محبت کا کچھ ادا نہ ہوا

مزید پڑھیے

بیمار غم ہوں کار مسیحا کرے کوئی

بیمار غم ہوں کار مسیحا کرے کوئی درد دل و جگر کا مداوا کرے کوئی ذوق نظر کلیمؔ کا پیدا کرے کوئی پھر دید حسن یار کا دعویٰ کرے کوئی ملتا نہیں وفا کا وفا سے کہیں جواب پھر خاک دوستوں پہ بھروسا کرے کوئی پاس حیا نہیں انہیں جوش شباب میں ان کی بھی آرزو ہے کہ دیکھا کرے کوئی دیکھا جو محو ...

مزید پڑھیے

غنچے کہیں ہیں گل ہیں کہیں باغباں کہیں

غنچے کہیں ہیں گل ہیں کہیں باغباں کہیں ہوگا نہ ایسا اجڑا ہوا گلستاں کہیں اللہ رے حسن دوست کی رعنائی جمال ہو جائے محو دید نہ سارا جہاں کہیں اپنے مریض ہجر کی کچھ لیجئے خبر دم توڑ دے نہ آپ کا اب نیم جاں کہیں وارفتگیٔ ذوق محبت نہ پوچھئے سجدہ کہیں جبیں ہے کہیں آستاں کہیں محفل میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3895 سے 4657