شاعری

درد غم فراق کا درماں نہ ہو سکا

درد غم فراق کا درماں نہ ہو سکا ظلمت کدہ میں دل کے چراغاں نہ ہو سکا ہوش و خرد سے دور جنوں کی حدود میں کچھ اہتمام جشن بہاراں نہ ہو سکا ان کی خوشی کے واسطے میں مسکرا دیا لیکن شگفتہ دل کا گلستاں نہ ہو سکا شمع حیات بجھنے کو ہر چند ہے مگر افسانۂ حیات کا عنواں نہ ہو سکا آئی بہار آ کے ...

مزید پڑھیے

کس کو دکھلائیں گے وہ ناز و ادا میرے بعد

کس کو دکھلائیں گے وہ ناز و ادا میرے بعد ہوگی کس پر یہ بھلا مشق جفا میرے بعد دیکھیے آپؐ بھی افسردہ رہیں گے اکثر یار آ جائے گی جب میری وفا میرے بعد زینت حسن بڑھی خون جگر سے میرے پھیکا پڑ جائے گا یہ رنگ حنا میرے بعد بارہا عرش بریں نالۂ شب سے کانپا عرش تک جائے گی کب آہ رسا میرے ...

مزید پڑھیے

درد جتنے ہیں وہی باعث درماں ہوں گے

درد جتنے ہیں وہی باعث درماں ہوں گے چارہ گر تیرے نہ شرمندۂ احساں ہوں گے دیکھنا گیسوئے جاناں بھی پریشاں ہوں گے موسم گل میں جو ہم چاک گریباں ہوں گے یوں ترے عشق میں ہم بے سر و ساماں ہوں گے اپنی ہستی کے تصور سے گریزاں ہوں گے داستاں غیر کی رنگین بنانے والے دیکھنا میرے فسانے کے بھی ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ قرباں میں ہوں اس تکرار پر

کیوں نہ قرباں میں ہوں اس تکرار پر پیار آتا ہے ترے انکار پر ناز بے جا ہے ابھی گفتار پر فیصلہ باقی ہے جب کردار پر بام پر شاید وہ آئیں بے نقاب چشم حسرت ہے در و دیوار پر ہر کلی ہوتی ہے صدقے صبح و شام تیرے گیسو اور ترے رخسار پر خون سے میں نے بھی سینچا ہے چمن حق ہے میرا بھی گل و گلزار ...

مزید پڑھیے

ہر رنگ طرب موسم و منظر سے نکالا

ہر رنگ طرب موسم و منظر سے نکالا اک راستہ پھر سعئ مکرر سے نکالا چلنے لگی ہر سمت سے جب باد خوش آثار اک اور بھنور ہم نے سمندر سے نکالا دیتی رہی آواز پہ آواز یہ دنیا سر ہم نے نہ پھر خاک کی چادر سے نکالا کم پڑ گئی پرواز کو جب وسعت افلاک اک اور فلک اپنے ہی شہ پر سے نکالا ہم دل سے رہے ...

مزید پڑھیے

مژہ پہ خواب نہیں انتظار سا کچھ ہے

مژہ پہ خواب نہیں انتظار سا کچھ ہے بہار تو نہیں عکس بہار سا کچھ ہے مجھے ملا نہ کبھی فرش گل پہ بھی آرام یہی لگا کہ کہیں نوک خار سا کچھ ہے جو پاس تھا اسی سودائے سر کی نذر ہوا نہ دھجیاں ہی بچی ہیں نہ تار سا کچھ ہے تمام عمر جسے میں عبور کر نہ سکا درون ذات مرے بے کنار سا کچھ ہے گزر گئی ...

مزید پڑھیے

میں ایک ریت کا پیکر تھا اور بکھر بھی گیا

میں ایک ریت کا پیکر تھا اور بکھر بھی گیا عجب تھا خواب کہ میں خواب ہی میں ڈر بھی گیا ہوا بھی تیز نہ تھی اور چراغ مر بھی گیا میں سامنے بھی رہا ذہن سے اتر بھی گیا نہ احتیاط کوئی کام آیا عشق کے ساتھ جو روگ دل میں چھپا تھا وہ کام کر بھی گیا عجب تھی ہجر کی ساعت کہ جاں پہ بن آئی کڑا تھا ...

مزید پڑھیے

رات آتی ہے تو طاقوں میں جلاتے ہیں چراغ

رات آتی ہے تو طاقوں میں جلاتے ہیں چراغ خواب زندہ ہیں سو آنکھوں میں جلاتے ہیں چراغ آندھیاں اب ہمیں محصور کئے بیٹھی ہیں اب تو ہم صرف خیالوں میں جلاتے ہیں چراغ ٹھوکریں کھاتے ہوئے عمر کٹی اپنی سو ہم دوسروں کے لئے راہوں میں جلاتے ہیں چراغ طنز کرتا ہوا گزرا تھا ہوا کا جھونکا تب سے ...

مزید پڑھیے

اے مرے دل بتا خواب بنتا ہے کیوں

اے مرے دل بتا خواب بنتا ہے کیوں روٹھنا ان کی فطرت ہے روتا ہے کیوں بے وفا آدمی بے وفا زندگی جانتا ہے اگر دل لگاتا ہے کیوں دور رہ کر بھی جب تو مرے پاس ہے تجھ کو پانے کو دل پھر مچلتا ہے کیوں وہ جدا کیا ہوئے زندگی بھی گئی آنسوؤں کی جگہ خوں بہاتا ہے کیوں

مزید پڑھیے

تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں

تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں اور اس ترک تعلق کی وضاحت بھی نہیں یاد میراث ہے یادیں ہی امانت ہیں مری وہ تو محفوظ ہیں اب ان کی عنایت بھی نہیں جب مری گردش دوراں سے ملاقات ہوئی ہنس کے بولے تجھے حاجات کفایت بھی نہیں تلخ یادوں کا دفینہ ہے یہ معصوم سا دل تلخ یادوں سے ہمیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3894 سے 4657