نہ ملال ہجر نہ منتظر ہیں ہوائے شام وصال کے
نہ ملال ہجر نہ منتظر ہیں ہوائے شام وصال کے ہم اسیر اپنی ہی ذات کے کسی خواب کے نہ خیال کے مرے شوق سیر و سفر کو اب نئے اک جہاں کی نمود کر ترے بحر و بر کو تو رکھ دیا ہے کبھی کا میں نے کھنگال کے وہ ہمیں تھے جن کے کمال کی ہے یہ کائنات بھی معترف وہی ہم کہ آج تماش بیں ہوئے خود ہی اپنے زوال ...