شاعری

نہ ملال ہجر نہ منتظر ہیں ہوائے شام وصال کے

نہ ملال ہجر نہ منتظر ہیں ہوائے شام وصال کے ہم اسیر اپنی ہی ذات کے کسی خواب کے نہ خیال کے مرے شوق سیر و سفر کو اب نئے اک جہاں کی نمود کر ترے بحر و بر کو تو رکھ دیا ہے کبھی کا میں نے کھنگال کے وہ ہمیں تھے جن کے کمال کی ہے یہ کائنات بھی معترف وہی ہم کہ آج تماش بیں ہوئے خود ہی اپنے زوال ...

مزید پڑھیے

نئے پیکر نئے سانچے میں ڈھلنا چاہتا ہوں میں

نئے پیکر نئے سانچے میں ڈھلنا چاہتا ہوں میں مزاج زندگی یکسر بدلنا چاہتا ہوں میں زمیں تیری کشش نے روک رکھا ہے مجھے ورنہ حدود خاک سے باہر نکلنا چاہتا ہوں میں نمو کا جوش ٹھوکر مارتا رہتا ہے سینے میں لہو کا چشمہ ہوں کب سے ابلنا چاہتا ہوں میں گزرتے جا رہے ہیں قافلے تو ہی ذرا رک ...

مزید پڑھیے

رنگ سارے اپنے اندر رفتگاں کے ہیں

رنگ سارے اپنے اندر رفتگاں کے ہیں ہم کہ برگ رائیگاں نخل زیاں کے ہیں شیشۂ عمر رواں سے خوف آتا ہے عکس اس میں ساعت کم مہرباں کے ہیں ہم کو کیا لا حاصلی ہی عشق میں گر ہے ہم تو خوگر یوں بھی کار رائیگاں کے ہیں تیرے کوچے کی ہوا پوچھے ہے اب ہم سے نام کیا ہے کیا نسب ہے ہم کہاں کے ہیں ہم کو ...

مزید پڑھیے

کیا گردشوں کے حوالے اسے چاک پر رکھ دیا

کیا گردشوں کے حوالے اسے چاک پر رکھ دیا کہ بننے بگڑنے کا ہر فیصلہ خاک پر رکھ دیا مجھے قصر تعبیر کی اس نے سب کنجیاں سونپ دیں مگر چھین کر خواب آنکھوں سے افلاک پر رکھ دیا سوا راکھ ہونے کے اب کوئی چارہ بچا ہی نہیں شرار ہوس کس نے یہ میرے خاشاک پر رکھ دیا کوئی ہے جو گرداب غم سے بچائے ...

مزید پڑھیے

کیوں مجھ سے گریزاں ہے میں تیرا مقدر ہوں

کیوں مجھ سے گریزاں ہے میں تیرا مقدر ہوں اے عمر رواں خوش ہوں میں تجھ کو میسر ہوں میں آپ بہار اپنی میں اپنا ہی منظر ہوں خود اپنے ہی خوابوں کی خوشبو سے معطر ہوں بے رنگ نہ واپس کر اک سنگ ہی دے سر کو کب سے ترا طالب ہوں کب سے ترے در پر ہوں جب جیسی ضرورت ہو بن جاتا ہوں ویسا ہی خود اپنی ...

مزید پڑھیے

جل رہا ہوں تو عجب رنگ و سماں ہے میرا

جل رہا ہوں تو عجب رنگ و سماں ہے میرا آسماں جس کو سمجھتے ہو دھواں ہے میرا لے گئی باندھ کے وحشت اسے صحرا کی طرف ایک دل ہی تو تھا اب وہ بھی کہاں ہے میرا دیکھ لے تو بھی کہ یہ آخری منظر ہے مرا جس کو کہتے ہیں شفق رنگ زیاں ہے میرا اپنا ہی زور تنفس نہ مٹا دے مجھ کو ان دنوں زد پہ مری خیمۂ ...

مزید پڑھیے

دشت مرعوب ہے کتنا مری ویرانی سے

دشت مرعوب ہے کتنا مری ویرانی سے منہ تکا کرتا ہے ہر دم مرا حیرانی سے لوگ دریاؤں پہ کیوں جان دیئے دیتے ہیں تشنگی کا تو تعلق ہی نہیں پانی سے اب کسی بھاؤ نہیں ملتا خریدار کوئی گر گئی ہے مری قیمت مری ارزانی سے خود پہ سو جبر کئے دل کو بہت سمجھایا راس آئی کہاں دنیا ہمیں آسانی سے اب یہ ...

مزید پڑھیے

کر کے الفت یار سے پچھتائیں کیا

کر کے الفت یار سے پچھتائیں کیا گردش تقدیر سے گھبرائیں کیا جب نہیں قدر خلوص اہل دل نذر کرنے کے لئے پھر لائیں کیا جو گزرتی ہے گزر جانے بھی دو چارہ گر کو حال دل بتلائیں کیا دیکھ کر بے ساز و سامانی مری کہہ رہے ہیں تیرے گھر ہم آئیں کیا سن کے لرزاں تھے زمین و آسماں داستان درد دل ...

مزید پڑھیے

گلشن کے گل ہیں چاک گریباں ترے بغیر

گلشن کے گل ہیں چاک گریباں ترے بغیر اجڑی ہوئی ہے بزم گلستاں ترے بغیر آ جا کہ میرا دل ہے پریشاں ترے بغیر پھر چشم انتظار ہے گریاں ترے بغیر بے کیف زندگی ہے تو ہر ہر نفس ہے بار ہوگا نہ دل مرا کبھی خنداں ترے بغیر ممنون التفات ہوں اے جذب دل ترا پاتا ہے کون منزل عرفاں ترے بغیر اے دور ...

مزید پڑھیے

آپ آئے تو دل کشی آئی

آپ آئے تو دل کشی آئی لب پہ گلشن کے بھی ہنسی آئی تم سے پہلے یہاں اندھیرا تھا تم جو آئے تو روشنی آئی ڈوب جاتیں حیات کی نبضیں ان کے آنے سے زندگی آئی سارے عالم کا بخت روشن ہے میری قسمت میں تیرگی آئی دیکھ کر مجھ کو آج کیوں اسلمؔ زندگی روٹھ کر چلی آئی

مزید پڑھیے
صفحہ 3893 سے 4657