شاعری

دیکھ کے ارزاں لہو سرخئ منظر خموش

دیکھ کے ارزاں لہو سرخئ منظر خموش بازئ جاں پر مری تیغ بھی ششدر خموش عکس مرا منتشر اور یہ عالم کہ ہے ایک اک آئینہ چپ ایک اک پتھر خموش تیغ نفس کو بہت ناز تھا رفتار پر ہو گئی آخر مرے خوں میں نہا کر خموش عرصۂ حیرت میں گم آئنہ خانے مرے خیمۂ مژگاں میں ہیں خواب کے پیکر خموش خوف سے سب دم ...

مزید پڑھیے

سفر سے پہلے سرابوں کا سلسلہ رکھ آئے

سفر سے پہلے سرابوں کا سلسلہ رکھ آئے ہر ایک موڑ پہ آشوب اک نیا رکھ آئے کہاں بھٹکتی پھرے گی اندھیری گلیوں میں ہم اک چراغ سر کوچۂ ہوا رکھ آئے تمام عمر سفر سے غرض رہی ہم کو ہر اختتام پہ ہم ایک ابتدا رکھ آئے بھٹک نہ جائے مسافر کوئی ہمارے بعد سو راہ شوق میں ہم اپنے نقش پا رکھ آئے یہ ...

مزید پڑھیے

اے مرے غبار سر تو ہی تو نہیں تنہا رائیگاں تو میں بھی ہوں

اے مرے غبار سر تو ہی تو نہیں تنہا رائیگاں تو میں بھی ہوں میرے ہر خسارے پر میرے یہ مخالف کیا شادماں تو میں بھی ہوں دشت یہ اگر اپنی وسعتوں پہ نازاں ہے مجھ کو اس سے کیا لینا ذرہ ہی سہی لیکن میری اپنی وسعت ہے بے کراں تو میں بھی ہوں در بہ در بھٹکتی ہے دشت و شہر و صحرا میں اپنا سر پٹکتی ...

مزید پڑھیے

بجھ گئے منظر افق پر ہر نشاں مدھم ہوا

بجھ گئے منظر افق پر ہر نشاں مدھم ہوا لمحہ لمحہ سارا رنگ آسماں مدھم ہوا تھک گئے ہمراہ میرے جاگنے والے سبھی آخر شب مجھ میں بھی اک شور فغاں مدھم ہوا محو ہو جاؤں گا میں بھی ایک دن ہر ذہن سے آئنوں میں جیسے عکس رفتگاں مدھم ہوا رات ڈھلتے ڈھلتے آئی صبح کی دہلیز تک دل نے لے تبدیل کر دی ...

مزید پڑھیے

عکس جل جائیں گے آئینے بکھر جائیں گے

عکس جل جائیں گے آئینے بکھر جائیں گے خواب ان جاگتی آنکھوں میں ہی مر جائیں گے ہم کہ دل دادہ کہاں رونق بازار کے ہیں بے نیازانہ ہی دنیا سے گزر جائیں گے جن کو دستار کی خواہش ہے انہیں کیا معلوم معرکہ اب کے وہ ٹھہرا ہے کہ سر جائیں گے کوئی منزل نہیں رستے ہیں فقط چاروں طرف جو نکل آئے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہم وہ آوارہ کہ جو دشت نہ گھر کے لئے ہیں

ہم وہ آوارہ کہ جو دشت نہ گھر کے لئے ہیں جانے پھر کون سی دنیائے دگر کے لئے ہیں جبر موسم کے ہیں جتنے بھی شجر کے لئے ہیں ان کو کیا اس سے جو بیتاب ثمر کے لئے ہیں رونقیں بھی تو بجھا دیتی ہیں آنکھیں اکثر کچھ نظارے ہیں کہ قاتل جو نظر کے لئے ہیں راس آتی ہے بھلا ان کو کہاں نان جویں لوگ ...

مزید پڑھیے

میں ہجو اک اپنے ہر قصیدے کی رد میں تحریر کر رہا ہوں

میں ہجو اک اپنے ہر قصیدے کی رد میں تحریر کر رہا ہوں کہ آپ اپنے سے ہوں مخاطب خود اپنی تحقیر کر رہا ہوں کہاں ہے فرصت نشاط و غم کی کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں لہو میں گرداب ڈالتا ہوں نفس کو شمشیر کر رہا ہوں مری کہانی رقم ہوئی ہے ہوا کے اوراق منتشر پر میں خاک کے رنگ غیر فانی کو اپنی ...

مزید پڑھیے

تو اپنے شہر طرب سے نہ پوچھ حال مرا

تو اپنے شہر طرب سے نہ پوچھ حال مرا مجھے عزیز ہے یہ کوچۂ ملال مرا ابھی تو ہونا ہے اک رقص بے مثال مرا دیئے کی لو سے ابھی دیکھنا وصال مرا وہ درد ہوں کوئی چارہ نہیں ہے جس کا کہیں وہ زخم ہوں کہ ہے دشوار اندمال مرا تو کیا یہ وقت یونہی روندتا رہے گا مجھے ڈراتا رہتا ہے مجھ کو یہی سوال ...

مزید پڑھیے

سراب معنی و مفہوم میں بھٹکتے ہیں

سراب معنی و مفہوم میں بھٹکتے ہیں کچھ ایسے لفظ جو شاید ازل سے پیاسے ہیں سماعتوں کو ابھی یوں ہی منتظر رکھنا پس غبار خموشی ہزار نغمے ہیں اندھیرے کتنے ہی سفاک ہوں کہ ظالم ہوں مگر چراغ کی ننھی سی لو سے ڈرتے ہیں یہ کس خیال کی لو سے لپٹ رہی ہے ہوا یہ کس کی یاد کے سائے سے تھرتھراتے ...

مزید پڑھیے

پتھروں پر وادیوں میں نقش پا میرا بھی ہے

پتھروں پر وادیوں میں نقش پا میرا بھی ہے راستوں سے منزلوں تک سلسلہ میرا بھی ہے پاؤں اس کے بھی نہیں اٹھتے مرے گھر کی طرف اور اب کے راستہ بدلا ہوا میرا بھی ہے حبس کے عالم میں بھی زندہ ہوں تیری آس پر اے ہوائے تازہ دروازہ کھلا میرا بھی ہے بادلوں سے اے زمیں تو ہی نہیں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3892 سے 4657