دیکھ کے ارزاں لہو سرخئ منظر خموش
دیکھ کے ارزاں لہو سرخئ منظر خموش بازئ جاں پر مری تیغ بھی ششدر خموش عکس مرا منتشر اور یہ عالم کہ ہے ایک اک آئینہ چپ ایک اک پتھر خموش تیغ نفس کو بہت ناز تھا رفتار پر ہو گئی آخر مرے خوں میں نہا کر خموش عرصۂ حیرت میں گم آئنہ خانے مرے خیمۂ مژگاں میں ہیں خواب کے پیکر خموش خوف سے سب دم ...