شاعری

گہری ہے شب کی آنچ کہ زنجیر در کٹے

گہری ہے شب کی آنچ کہ زنجیر در کٹے تاریکیاں بڑھے تو سحر کا سفر کٹے کتنی شدید ہے یہ خنک سرخیوں کی شام سلگا ہے وہ سکوت کہ تار نظر کٹے سوگند ہے کہ ترک طلب کی سزا ملے رک جائے گر قدم کی مسافت تو سر کٹے کیوں کشت اعتبار بھی سرسر کی زد میں ہو کیا انتظار خلق سے فصل ہنر کٹے یوں بھی تو ہو کہ ...

مزید پڑھیے

میں زخم زخم رہوں روح کے خرابوں سے

میں زخم زخم رہوں روح کے خرابوں سے تو جسم جسم دہکتا رہے گلابوں سے کسی کی چال نے نشے کا رس کشید کیا کسی کا جسم تراشا گیا شرابوں سے صبا کا ہاتھ ہے اور ہے ترے گداز کا لمس میں جاگتا ہی رہوں گرم گرم خوابوں سے قدم قدم ہے چکا چوند چاہتوں کا چراغ میں شہر آئنہ جلتا ہوں آفتابوں سے عطاؔ ...

مزید پڑھیے

چوب صحرا بھی وہاں رشک ثمر کہلائے

چوب صحرا بھی وہاں رشک ثمر کہلائے ہم خزاں بخت شجر ہو کے حجر کہلائے ہم تہ خاک کئے جاں کا عرق ان کے لئے اور پس راہ وفا گرد سفر کہلائے ان کی پوروں میں ستارے بھی ہیں انگارے بھی وہ صدف جسم ہوئے آتش تر کہلائے اپنی راہوں کا گلستان لگے ویرانہ ان کی دہلیز کی مٹی بھی گہر کہلائے جن کی ...

مزید پڑھیے

دشت کی آوارگی ہو چاک دامانی بھی ہو

دشت کی آوارگی ہو چاک دامانی بھی ہو عشق ہے دل میں تو وحشت کی فراوانی بھی ہو راحت قلب و نظر تم ہو تشفی بھی تمہی اور تم میرے لیے وجہ پریشانی بھی ہو سوکھی آنکھوں سے تکا کرتے ہیں سوئے آسماں گریہ کرنے کو ہماری آنکھوں میں پانی بھی ہو کم سے کم یہ فون ہی کا سلسلہ باقی رہے ہجر مشکل ہے مگر ...

مزید پڑھیے

حاصل کبھی جو اس کی محبت نہ ہو ہمیں

حاصل کبھی جو اس کی محبت نہ ہو ہمیں پل بھر کی بھی حیات میں راحت نہ ہو ہمیں شکوے جو تم سے ہیں وہ توقع کے ساتھ ہیں امید گر نہ ہو تو شکایت نہ ہو ہمیں جذباتیت میں ترک تعلق تو کر چکے کل اپنے فیصلے پہ ندامت نہ ہو ہمیں یہ اور بات ہے کہ لبوں سے نہیں عیاں یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہ ہو ...

مزید پڑھیے

توحید دل میں ہو تو لبوں پر رہے خدا

توحید دل میں ہو تو لبوں پر رہے خدا ہم یوں جیے تو کیا جیے بے دین بے خدا لو یوں تو ہو گئی ہے بہت کم ضمیر کی اس آخری چراغ کو بجھنے نہ دے خدا تو راہ راست اپنے کرم سے دکھا مجھے رستے غلط ہزار ہیں دنیا میں اے خدا طالب ہیں برتری کے مگر ہیں عمل سے دور ہم کو جو کام کرنا ہے وہ کیوں کرے خدا گر ...

مزید پڑھیے

یہ بھی کرنا پڑا محبت میں

یہ بھی کرنا پڑا محبت میں خود سے ڈرنا پڑا محبت میں دشت جاں کے مہیب رستوں سے پھر گزرنا پڑا محبت میں کتنے ملبوس زخم نے بدلے جب سنورنا پڑا محبت میں پار اترے تو پھر سمجھ آئی کیوں اترنا پڑا محبت میں خود بخود ہم سمٹ گئے دل میں جب بکھرنا پڑا محبت میں

مزید پڑھیے

جہان حسن و نظر سے کنارہ کرنا ہے

جہان حسن و نظر سے کنارہ کرنا ہے وجود شب کو مجھے استعارہ کرنا ہے مرے دریچۂ دل میں ٹھہر نہ جائے کہیں وہ ایک خواب کہ جس کو ستارہ کرنا ہے تمام شہر اندھیروں میں ڈوب جائے گا ہوا کو ایک ہی اس نے اشارہ کرنا ہے یہ قربتوں کے ہیں لمحے انہیں غنیمت جان انہی دنوں کو تو ہم نے پکارا کرنا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

یہ معجزہ بھی کسی روز کر ہی جانا ہے

یہ معجزہ بھی کسی روز کر ہی جانا ہے ترے خیال سے اک دن گزر ہی جانا ہے نہ جانے کس لیے لمحوں کا بوجھ ڈھوتے ہیں یہ جانتے ہیں کہ اک دن تو مر ہی جانا ہے وہ کہہ رہا تھا نبھائے گا پیار کی رسمیں میں جانتا تھا کہ اس نے مکر ہی جانا ہے ہوائے شام کہاں لے چلی زمانے کو ذرا ٹھہر کہ ہمیں بھی ادھر ہی ...

مزید پڑھیے

کار دنیا سے گئے دیدۂ بے دار کے ساتھ

کار دنیا سے گئے دیدۂ بے دار کے ساتھ ربط لازم تھا مگر نرگس بیمار کے ساتھ قیمت شوق بڑھی ایک ہی انکار کے ساتھ واقعہ کچھ تو ہوا چشم خریدار کے ساتھ ہر کوئی جان بچانے کے لئے دوڑ پڑا کون تھا آخر دم قافلہ سالار کے ساتھ میں ترے خواب سے آگے بھی نکل سکتا ہوں دیکھ مجھ کو نہ پرکھ وقت کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3890 سے 4657