شاعری

چند لمحوں کو سہی تھا ساتھ میں رہنا بہت

چند لمحوں کو سہی تھا ساتھ میں رہنا بہت ایک بس تیرے نہ ہونے سے ہے سناٹا بہت ضبط کا سورج بھی آخر شام کو ڈھل ہی گیا غم کا بادل بن کے آنسو رات بھر برسا بہت دشمنوں کو کوئی بھی موقع نہ ملنے پائے گا دوستوں نے ہی مرے بارے میں ہے لکھا بہت میں کھرا اترا نہیں تیرے تقاضے پر کبھی زندگی اے ...

مزید پڑھیے

جدائی حد سے بڑھی تو وصال ہو ہی گیا

جدائی حد سے بڑھی تو وصال ہو ہی گیا چلو وہ آج مرا ہم خیال ہو ہی گیا نوازتا تھا ہمیشہ وہ غم کی دولت سے اور اس خزانے سے میں مالا مال ہو ہی گیا میں آدمی ہوں تو ہمت نہ ٹوٹتی کیسے غموں کے بوجھ سے آخر نڈھال ہو ہی گیا یہ اور بات کہ وہ آدمی نہ بن پایا مگر زمانے کی خاطر مثال ہو ہی گیا وہ ...

مزید پڑھیے

اگرچہ لائی تھی کل رات کچھ نجات ہوا

اگرچہ لائی تھی کل رات کچھ نجات ہوا اڑا کے لے گئی بادل بھی ساتھ ساتھ ہوا میں کچھ کہوں بھی تو کیسے کہ وہ سمجھتے ہیں ہماری ذات ہوا ہے ہماری بات ہوا انہیں یہ خبط ہے وہ قید ہم کو کر لیں گے تمہیں بتاؤ کہ آئی ہے کس کے ہاتھ ہوا کسی بھی شخص میں ٹھہراؤ نام کا بھی نہیں ہمیں تو لگتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ہم تو بچھڑ کے رو لیتے ہیں

ہم تو بچھڑ کے رو لیتے ہیں داغ جدائی دھو لیتے ہیں غم کو ناحق رسوا کرنے مے خانے کو ہو لیتے ہیں ہو جاتے ہیں خود وہ مقدس نام بھی ان کا جو لیتے ہیں جس نے بھی کیں پیار سے باتیں ساتھ اس کے ہو لیتے ہیں کیوں چاہیں اخلاق کی فصلیں وہ جو نفرت بو لیتے ہیں دیو پری کے قصے سن کر بھوکے بچے سو ...

مزید پڑھیے

ضبط کی حد سے ہو کے گزرنا سو جانا

ضبط کی حد سے ہو کے گزرنا سو جانا رات گئے تک باتیں کرنا سو جانا روزانا کی دیواروں سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو کے بکھرنا سو جانا دن بھر ہجر کے زخموں کی مرہم کاری رات کو تیرے وصل میں مرنا سو جانا مجھ کو یہ آسودہ مزاجی تم نے دی سانسوں کی خوشبو سے سنورنا سو جانا ہونٹوں پر اک بار سجا کر ...

مزید پڑھیے

بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو

بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو بڑے فریب کھاؤ گے بڑے ستم اٹھاؤ گے یہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو جو تم کہو یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں جو میں کہوں بس اک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو میں اک غریب بے نوا میں اک فقیر بے صدا مری نظر ...

مزید پڑھیے

دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا

دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا مہک رہا ہے کسی کا بدن سر مہتاب مرے خیال کی ٹہنی پہ کیا گلاب سجا کوئی کہیں تو سنے تیرے عرض حال کا حبس ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا تمام شب تھا ترا ...

مزید پڑھیے

زندگی آئینہ ہے آئینہ آرائی ہے

زندگی آئینہ ہے آئینہ آرائی ہے اجنبی بھی ہے وہی جس سے شناسائی ہے سنگ دل سامنے آتا ہے تو یہ سوچتا ہوں آرزو حسن کی دیوار سے ٹکرائی ہے آج کی رات بھی کرتا ہے کوئی کفر کی بات چاند کے پھول میں شبنم کی شراب آئی ہے کس کو اس دور میں ہے فرصت عشق خوباں آگ تیرے لب و رخسار نے برسائی ہے تو ...

مزید پڑھیے

پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا

پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا کچھ وہ آنکھوں کو لگے سنگ پہ سبزے کی طرح کچھ سرابوں نے ہمیں تشنۂ ...

مزید پڑھیے

یک لمحہ سہی عمر کا ارمان ہی رہ جائے

یک لمحہ سہی عمر کا ارمان ہی رہ جائے اس خلوت یخ میں کوئی مہمان ہی رہ جائے قربت میں شب گرم کا موسم ہے ترا جسم یہ خطۂ جاں وقف زمستان ہی رہ جائے مجھ شاخ برہنہ پہ سجا برف کی کلیاں پت جھڑ پہ ترے حسن کا احسان ہی رہ جائے برفاگ کے آشوب میں جم جاتی ہیں سوچیں اس کرب قیامت میں ترا دھیان ہی رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3889 سے 4657