چند لمحوں کو سہی تھا ساتھ میں رہنا بہت
چند لمحوں کو سہی تھا ساتھ میں رہنا بہت ایک بس تیرے نہ ہونے سے ہے سناٹا بہت ضبط کا سورج بھی آخر شام کو ڈھل ہی گیا غم کا بادل بن کے آنسو رات بھر برسا بہت دشمنوں کو کوئی بھی موقع نہ ملنے پائے گا دوستوں نے ہی مرے بارے میں ہے لکھا بہت میں کھرا اترا نہیں تیرے تقاضے پر کبھی زندگی اے ...