شاعری

ہاتھ کیوں تھکنے لگے ہیں قاتلوں سے پوچھنا

ہاتھ کیوں تھکنے لگے ہیں قاتلوں سے پوچھنا کے بھی کیوں بولتی ہیں گردنوں سے پوچھنا تم نے تو بس حال ہی پوچھا تھا مجھ بیمار کا آ گئے ہیں کیوں امنڈ کر آنسوؤں سے پوچھنا جوجھتے رہنے کا ہے سیلاب سے مفہوم کیا کشتیوں کو کھینے والے مانجھیوں سے پوچھنا بھوکے بچے کے لیے کیا شے ہے ممتا کی ...

مزید پڑھیے

ہجر کی رت ہے ترا روپ مگر سامنے ہے

ہجر کی رت ہے ترا روپ مگر سامنے ہے ہاں وہی چہرہ وہی دیدۂ تر سامنے ہے خوب ہے شہر اماں تیرا یہاں بھی اے جاں جس سے ہم بچ کے چلے تھے وہ خطر سامنے ہے اب نہیں کوئی یہاں حوصلہ دینے والا پھر وہی دشت وہی شام سفر سامنے ہے ساتھ چلتی تھیں ابھی ایک نگر کی چیخیں اب کوئی دوسرا مجروح نگر سامنے ...

مزید پڑھیے

یہ عشق نامراد بھی کس گمرہی میں ہے

یہ عشق نامراد بھی کس گمرہی میں ہے کھڑکی میں جو کبھی تھا وہ چہرہ گلی میں ہے ہر صبح چھیڑتی ہیں ہواؤں کی انگلیاں پوشیدہ ایک پھول جو ننھی کلی میں ہے جیسے ہر ایک انگ ہے آنکھیں لیے ہوئے کیا طرفہ احتیاط تری سادگی میں ہے ناکام زندگی ہو کہ ناکام عشق ہو جینے کی آرزو تو مری جاں سبھی میں ...

مزید پڑھیے

آ گئے ہو تو رہو ساتھ سحر ہونے تک

آ گئے ہو تو رہو ساتھ سحر ہونے تک ہم بھی شاید ہیں یہی رات بسر ہونے تک نامہ بر سست قدم اس پہ یہ راہ دشوار زندہ رہنا ہے ہمیں ان کو خبر ہونے تک دم نہیں لیں گے کسی طور یہ کھاتے ہیں قسم ظلم کی آہنی دیوار میں در ہونے تک آسمانوں سے لڑی دل سے نکل کر اک آہ ایک پل چین سے بیٹھی نہ اثر ہونے ...

مزید پڑھیے

جب تمہارا ظالموں سے کوئی بھی رشتہ نہیں

جب تمہارا ظالموں سے کوئی بھی رشتہ نہیں کس لیے تم نے شہا پھر ظلم کو روکا نہیں وقت کے بدلے ہوئے رخ نے پناہیں چھین لیں ہم پس دیوار بیٹھے ہیں مگر سایہ نہیں آسماں کچھ تو بتا یا امتحاں ہے یا سزا سلسلہ ظلم و ستم کا کس لیے رکتا نہیں سب نے کانٹوں ہی پہ چل کر پائی ہے منزل یہاں کامیابی کے ...

مزید پڑھیے

وائے تقدیر کیا یہ المیہ نہیں

وائے تقدیر کیا یہ المیہ نہیں سب ہیں اپنے مگر کوئی اپنا نہیں دیدہ و دل کہ سنسان صحرا ہوئے دل میں جذبہ تو آنکھوں میں سپنا نہیں عشق کو ترک کرنے میں دقت نہ تھی عشق کو مشغلہ ہم نے سمجھا نہیں اب کے مجھ سے ملا وہ تو ایسا لگا وہ ہی چہرہ ہے لیکن وہ چہرہ نہیں پھنک رہا ہے بدن کنج تنہائی ...

مزید پڑھیے

رت مری بستی کو اس درجہ بھی بارانی نہ دے

رت مری بستی کو اس درجہ بھی بارانی نہ دے شہر دل کے سبزہ زاروں کو یہ ویرانی نہ دے مل نہیں پاتا کبھی پھولوں سے غنچوں سے مزاج یوں مہک بھی اپنی ان کو رات کی رانی نہ دے خود کلامی کرنی ہے خود سے ہی سرگوشی مجھے اب کوئی صورت مجھے جانی یا انجانی نہ دے سیم گوں خوابوں کو لے کر ہو نہ سر گرداں ...

مزید پڑھیے

دیکھنے میں تو لگتے ہیں انسان سے

دیکھنے میں تو لگتے ہیں انسان سے بے خبر ہیں سب اپنی ہی پہچان سے ہے تجھے یاد کرنے کی خواہش بہت دل جو غافل کبھی ہو ترے دھیان سے دشمنی کا کوئی داؤ کاری نہیں جیت لیتے ہیں دشمن کو احسان سے دل میں شفقت ہو چاہت ہو اخلاص ہو گھر کا مطلب نہیں ساز و سامان سے یوں سر راہ ان سے تقابل ہوا جیسے ...

مزید پڑھیے

سر سبز یہ جنگل چاہت کا وہ دشت وفا ہے ویراں بھی

سر سبز یہ جنگل چاہت کا وہ دشت وفا ہے ویراں بھی ہے دل کو سکوں بھی دیکھ کے یہ اور ذہن رسا ہے حیراں بھی یہ بھی ہے قرینہ اک شاید ہستی میں توازن رکھنے کا کچھ راز عیاں کر لوگوں پر کچھ حال مگر رکھ پنہاں بھی اک ضرب انا نے زیر و زبر کر ڈالا محبت کا محور اب اس سے پناہ رب چاہیں تھے جس پہ کبھی ...

مزید پڑھیے

مطمئن ہو کے مرنے کا سامان کر

مطمئن ہو کے مرنے کا سامان کر زندگی اے خدا مجھ پہ آسان کر صرف رسمی تعارف ہی کافی نہیں میرے نزدیک آ میری پہچان کر رسم ہے سجدہ ریزی تو کچھ بھی نہیں قلب کو پہلے اپنے مسلمان کر ابر کی اوٹ میں چاند کب کا چھپا اب نہ چہرے پہ زلفیں پریشان کر موت تو آئے گی بے طلب آئے گی زندگی ہے تو جینے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3888 سے 4657