خود کو دنیا میں نہ الجھاؤ خدا را محسن
خود کو دنیا میں نہ الجھاؤ خدا را محسن اس کے پیغام کا سمجھو تو اشارا محسن بیٹھ جانا کہیں تھک ہار کے زیبا ہے کیا تو زمانے کا زمانہ ہے تمہارا محسن پچھلی شب اس کی محبت نے کہا دھیرے سے تجھ سے دوری نہیں اک پل بھی گوارا محسن با خدا الفت سرور کی کرامت ہے یہ جون کہہ کر جو زمانے نے پکارا ...