شاعری

خود کو دنیا میں نہ الجھاؤ خدا را محسن

خود کو دنیا میں نہ الجھاؤ خدا را محسن اس کے پیغام کا سمجھو تو اشارا محسن بیٹھ جانا کہیں تھک ہار کے زیبا ہے کیا تو زمانے کا زمانہ ہے تمہارا محسن پچھلی شب اس کی محبت نے کہا دھیرے سے تجھ سے دوری نہیں اک پل بھی گوارا محسن با خدا الفت سرور کی کرامت ہے یہ جون کہہ کر جو زمانے نے پکارا ...

مزید پڑھیے

میں ترے شہر میں پھرتی رہی ماری ماری

میں ترے شہر میں پھرتی رہی ماری ماری کبھی گلشن کبھی صحرا کبھی وادی وادی راہ پر پینچ تھی تنہائی تھی اندھیارا تھا بے بسی کہتی رہی دشت میں ہادی ہادی الجھنیں اور کسک ہو گئی تقدیر مری خانقاہوں میں بھی جھانک آئے ہیں جالی جالی چھڑ گیا پھر دل بیتاب پر اک ساز نیا رخ ہستی پہ چھلکنے لگی ...

مزید پڑھیے

درد کی جوت مرے دل میں جگانے والے

درد کی جوت مرے دل میں جگانے والے روز پیغام نیا دے کے رلانے والے کیسے لکھ دوں میں ترے نام فسانہ کوئی بیچ منجدھار میں کشتی کو ڈبانے والے نہ کوئی عکس نہ زنگار رہا میرے لیے روح کے شیشہ کو شفاف بنانے والے کیا نہیں لکھا نگاہوں کو رہین جلوہ اپنی تحریر سے تقدیر سجانے والے مثل پروانہ ...

مزید پڑھیے

بالیدگئی ظرف پہ دکھلائے گئے لوگ

بالیدگئی ظرف پہ دکھلائے گئے لوگ ہر گام پہ گم نام ہے مٹواے گئے لوگ اس فرش طلسمی کو عطا کر دی فراغت یوں طشت فریبی میں ہی بکھرائے گئے لوگ قسمت کی لکیروں میں جنہیں باندھ کے رکھا آزادی کی مسند پہ بھی بٹھلائے گئے لوگ ہر روز نیا ایک تماشہ ہوا جاری آرائش دنیا میں جو الجھائے گئے ...

مزید پڑھیے

جو انکار سر کے جھکانے کو ہے

جو انکار سر کے جھکانے کو ہے گلا ہم سے سارے زمانے کو ہے میسر ہے ہر دل عزیزی اسے مروت بھی اس کی دکھانے کو ہے یہ قصہ ہے دل کا نہ ہوگا تمام ابھی اور کتنا سنانے کو ہے نیا اک المیہ نئی ابتلا خدا بھی ہمیں آزمانے کو ہے عجب ہے یہ ویران صحرا یہاں نہ تنکا کوئی آشیانے کو ہے حرم سے بھی لوٹے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک شخص کو دشمن اگر بناؤ گے

ہر ایک شخص کو دشمن اگر بناؤ گے مزاج پوچھنے والا کہاں سے لاؤ گے جو سب کو اپنے ہی معیار پر پرکھتے رہے تو زندگی میں کسے ہم سفر بناؤ گے یہاں تو ہر کوئی چہرے پہ چہرے رکھتا ہے اٹھا کے پہلو سے کس کو کسے بٹھاؤ گے تمہیں اصول تمہارے ہی مار ڈالیں گے نہ اپنے آپ کو ان سے اگر بچاؤ گے چراغ ...

مزید پڑھیے

چاہت کو زندگی کی ضرورت سمجھ لیا

چاہت کو زندگی کی ضرورت سمجھ لیا اب غم کو ہم نے تیری عنایت سمجھ لیا کھاتے رہے ہیں زیست میں کیا کیا مغالطے قامت کو اس حسیں کی قیامت سمجھ لیا کردار کیا رہا ہے کبھی یہ بھی سوچتے سجدے کیے تو ان کو عبادت سمجھ لیا ریشم سے نرم لہجے کے پیچھے مفاد تھا اس تاجری کو ہم نے شرافت سمجھ لیا اب ...

مزید پڑھیے

اس کو تم میرے تعلق کا حوالہ دیتے

اس کو تم میرے تعلق کا حوالہ دیتے میں بھی کل اس کا شناسا تھا یہ سمجھا دیتے یہ اماوس کا اندھیرا ہے کہ چھٹتا ہی نہیں کاش وہ آ کے کبھی گھر کو اجالا دیتے ہم نے دنیا کا بہت ساتھ دیا ہے اب تک کاش اک بار کبھی ساتھ ہم اپنا دیتے ہم تہی دست سہی پھر بھی سخی ہیں اتنے قطرہ ملتا تو عوض میں تمہیں ...

مزید پڑھیے

ابھی توقع بنائے رکھنا ابھی امیدیں جگائے رہنا

ابھی توقع بنائے رکھنا ابھی امیدیں جگائے رہنا بہت گھنا ہے اندھیرا شب کا دلوں کی شمعیں جلائے رہنا خدا ہی جانے کہ آنے والی رتوں میں کیا ہو جہاں کی حالت ابھی یہ نغمے نہ بند کرنا ابھی یہ محفل سجائے رہنا یہ دیکھنا ہے کہ دم ہے کتنا غنیم لشکر کے بازوؤں میں صفوں کو اپنی سجائے رکھنا سروں ...

مزید پڑھیے

نیت ہو اگر نیک تو دیتا ہے خدا بھی

نیت ہو اگر نیک تو دیتا ہے خدا بھی کرتے ہیں عمل لوگ تو ملتا ہے صلہ بھی باطن کی حرارت سے پھنکے جاتے ہیں تن من پروائی بھی چلتی ہے برستی ہے گھٹا بھی چھو کر نہیں گزری ہے تری زلف معطر اس بار تو محروم چلی آئی صبا بھی اک تم ہو کہ بچھڑے تو بچھڑ ہی گئے ہم سے ملتے ہیں بہت لوگ تو ہوتے ہیں جدا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3887 سے 4657