یہ آگ محبت کی بجھائے نہ بجھے ہے
یہ آگ محبت کی بجھائے نہ بجھے ہے بجھ جائے جو اک بار جلائے نہ جلے ہے ٹوٹا جو بھرم رشتوں میں احساس و وفا کا سو طرح نبھاؤ تو نبھائے نہ نبھے ہے خوابوں کا محل یوں ہی بنایا نہ کرو تم تعمیر جو ہو جائے گرائے نہ گرے ہے دہلیز پہ دل کی جو قدم رکھے ہے کوئی ٹک جائے ہے ایسے کے ہلائے نہ ہلے ...