شاعری

دھوئیں میں ڈوبے ہیں پھول تارے چراغ جگنو چنار کیسے

دھوئیں میں ڈوبے ہیں پھول تارے چراغ جگنو چنار کیسے نئی رتوں کے اڑن کھٹولوں پہ آ رہے ہیں سوار کیسے میں اپنے آنگن کی زرد مٹی پہ بیٹھا پہروں یہ سوچتا ہوں دبیز شیشے کی کھڑکیوں میں اگی تھی شاخ انار کیسے چلو یہ مانا کہ میرے گھر کی گھٹی گھٹی سی فضا تھی لیکن تری منڈیروں کی ڈالیوں پر ...

مزید پڑھیے

کالی رات کے روشن جگنو ہم دونوں

کالی رات کے روشن جگنو ہم دونوں دن کے اجلے بدن کی خوشبو ہم دونوں مدھر راگ پھیلا کر ہر سو ہم دونوں سر پر چڑھ کر بولتا جادو ہم دونوں خود بھی مہکیں اوروں کو بھی مہکائیں ایسے دشت ختن کے آہو ہم دونوں دنیا بھر میں جوگ جگانے کی خاطر در در بھٹکیں بن کر سادھو ہم دونوں درد بھرے جو دل ...

مزید پڑھیے

میں یہ چاہوں میں الجھی ہوں تو بھی الجھے

میں یہ چاہوں میں الجھی ہوں تو بھی الجھے پاس مرے آئے اور آ کر بیٹھے سوچے تنہا تنہا درد سمیٹے پھرتی ہوں میں ہمدردی کی کیسی سزا ہے کوئی دیکھے اب سوچوں تو خون کے آنسو دل روتا ہے کتنی ہنستی رہتی تھی میں برسوں پہلے کوئی ہوگا میرا اپنا دل کہتا ہے بچے کی کلکاری کو من میرا ترسے ایک مدت ...

مزید پڑھیے

اپنے دشمن کو تو میں ایسی سزا دیتی ہوں

اپنے دشمن کو تو میں ایسی سزا دیتی ہوں قتل کرتی نہیں نظروں سے گرا دیتی ہوں بے ادب لوگ جو ہوتے ہیں مری نظروں میں ان کو محفل سے نہیں دل سے اٹھا دیتی ہوں زعم ہو جس میں تو نرمی سے نہیں ملتی میں تلخ گوئی سے ہی کمزور بنا دیتی ہوں رسم الفت کو نبھانے کے لئے میں اکثر خود کو ناکردہ گناہوں ...

مزید پڑھیے

کبھی مشکل میں جو پڑ جائے ضرورت محسن

کبھی مشکل میں جو پڑ جائے ضرورت محسن مجھے مل پائے گی کیا تیری حمایت محسن ساتھ دیتا ہے شب غم میں کہاں سایہ بھی کیا نبھائے گی وفا تیری محبت محسن وعدہ کر لینا ہے آسان نبھانا مشکل سخت ہوتی ہے بہت راہ مروت محسن راستہ صاف ہو سایہ ہو ہوا ٹھنڈی ہو ہم سفر ایسے میں کرتے ہیں عنایت ...

مزید پڑھیے

ایسا یہ درد ہے کہ بھلایا نہ جائے گا

ایسا یہ درد ہے کہ بھلایا نہ جائے گا معیار عشق ان سے بڑھایا نہ جائے گا اس بار ان سے کہہ دو قدم سوچ کر رکھیں اجڑا جو پھر یہ شہر بسایا نہ جائے گا جو لوگ بغض دل میں چھپائے ہیں آج بھی ان سے مرے مکان میں آیا نہ جائے گا حق بات بولنے سے کیا جس کسی نے خوف محفل میں پھر کبھی بھی بلایا نہ جائے ...

مزید پڑھیے

رات پھر خواب میں آنے کا ارادہ کر کے

رات پھر خواب میں آنے کا ارادہ کر کے چاند ڈبا ہے ابھی محو نظارہ کر کے تشنگی حد سے گزر جائے گی ساحل کے قریب فائدہ کیا ہے سمندر کا تقاضا کر کے حیرتی ہوں ابھی ٹوٹا ہے بھرم الفت کا دے گیا مات وہ پھر مجھ کو بہانا کر کے کرتا رہتا تھا مذاہاً وہ بہت سی باتیں اب رقم کرتے رہے اس کو فسانہ کر ...

مزید پڑھیے

جیسے ہی چشم رزاق سے گر گیا

جیسے ہی چشم رزاق سے گر گیا جگمگاتا دیا طاق سے گر گیا ایک لغزش سے دونوں ہی رسوا ہوئے وہ نظر سے میں آفاق سے گر گیا شعر کہنے کو لکھا تھا میں نے ابھی ایک مضمون اوراق سے گر گیا اس کی نظروں سے میں کیا گرا ایک بار یوں لگا جیسے آفاق سے گر گیا ایک بیٹا تکبر کے آکاش سے باپ کے لفظ اک عاق سے ...

مزید پڑھیے

نتیجہ تجسس کا بہتر بھی ہے

نتیجہ تجسس کا بہتر بھی ہے مشقت کی تہ میں مقدر بھی ہے ندی پار کرنا ہی کافی نہیں ابھی راستے میں سمندر بھی ہے اگر گھر کو چھوڑیں تو جائیں کہاں قیامت تو کھڑکی سے باہر بھی ہے گلابوں کا دھوکا نہ کھائے کوئی عزیزوں کی جھولی میں پتھر بھی ہے نہیں نیند آنکھوں میں تجھ بن مری خنک رات ہے تن ...

مزید پڑھیے

صبح بھی ہوتی رہی مہتاب بھی ڈھلتا رہا

صبح بھی ہوتی رہی مہتاب بھی ڈھلتا رہا زندگی کا کارواں چلتا رہا چلتا رہا سانحہ کیا اس پہ گزرا کون اٹھ کر دیکھتا اہل خانہ سو گئے لیکن دیا جلتا رہا میرے خوابوں کی کوئی بنیاد بھی تھی کیا کہوں برف کا پربت تھا اک گلتا رہا گلتا رہا آخری وقت آ گیا تو سوچتا ہوں دوستو آج کا جو مسئلہ تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3885 سے 4657