شاعری

فن اصل میں پنہاں ہے دل زار کے اندر

فن اصل میں پنہاں ہے دل زار کے اندر فن کار ہے اک اور بھی فن کار کے اندر کانٹوں پہ بچھاتا ہے گلابوں کا بچھونا دو رنگ ہیں اک ساتھ مرے یار کے اندر وہ شور تھا محفل میں کوئی سن نہیں پایا اک چیخ تھی پازیب کی جھنکار کے اندر تم سچ کی زینت تھے مجھے دیکھتے کیسے میں بھی تھا نئی صبح کے اخبار ...

مزید پڑھیے

ماہ و انجم کہکشاں کے آشیانوں سے پرے

ماہ و انجم کہکشاں کے آشیانوں سے پرے آخری منزل ہے میری آسمانوں سے پرے ایسے عالم میں حقیقت کا ہو کیسے انکشاف وہ ابھی پہنچے نہیں ہیں داستانوں سے پرے ایک طوفاں سے دلوں کی کشتیاں ہیں منتشر ایک طوفاں منتظر ہے بادبانوں سے پرے آپ اپنی عنبریں زلفیں ہوا میں کھول دیں خوشبوئیں تو جا چکی ...

مزید پڑھیے

موسم نے گلابوں کے انگارے ہی بخشے ہیں

موسم نے گلابوں کے انگارے ہی بخشے ہیں اٹھتا ہے دھواں دل سے ہم آگ میں جلتے ہیں یوں ان کے دریچے تک جاتی ہے نظر جیسے پانی کے لئے دہقاں آکاش کو تکتے ہیں اس وقت بچھڑتے ہو کیوں راہ وفا میں تم کچھ اور چلو ساتھی آگے کئی رستے ہیں یہ رات ہے ساون کی جنگل میں اکیلا ہوں بجلی بھی چمکتی ہے بادل ...

مزید پڑھیے

حسن خوشبو پیام کچھ بھی نہ تھی

حسن خوشبو پیام کچھ بھی نہ تھی زندگی میرے نام کچھ بھی نہ تھی رنگ بخشے ہیں تیری قربت نے ورنہ شہروں کی شام کچھ بھی نہ تھی ان کی مخصوص اک ادا کے سوا وجہ ترک سلام کچھ بھی نہ تھی ذکر ہی سے ترے اجالا تھا شمع بزم کلام کچھ بھی نہ تھی آدمی کو نشہ تھا روحانی پہلے توقیر جام کچھ بھی نہ ...

مزید پڑھیے

دو جہاں کے حسن کا ارمان آدھا رہ گیا

دو جہاں کے حسن کا ارمان آدھا رہ گیا اس صدی کے شور میں انسان آدھا رہ گیا ہر عبادت گاہ سے اونچی ہیں مل کی چمنیاں شہر میں ہر شخص کا ایمان آدھا رہ گیا میں تو گھبرایا ہوا تھا یہ بہت اچھا ہوا یاد ان کی آ گئی طوفان آدھا رہ گیا پھول مہکے رنگ چھلکے جھیل پر ہم تم ملے بات ہے یہ خواب کی رومان ...

مزید پڑھیے

فرصت ہجر میں کچھ کار تماشہ ہی سہی

فرصت ہجر میں کچھ کار تماشہ ہی سہی تو نہیں مجھ کو میسر تو یہ دنیا ہی سہی میں کسی رحم و کرم پر تو نہیں تیری طرح زیست کی راہ پہ اب چاہے میں تنہا ہی سہی قریۂ غیر میں الفاظ کا دم گھٹتا ہے فرط اظہار کے پل اپنا علاقہ ہی سہی پہلے بڑھ چڑھ کے محبت میں کیا وقت بسر اب زبوں حالیٔ جذبات میں ...

مزید پڑھیے

شوق نظر گلاب سے بھی مطمئن نہیں

شوق نظر گلاب سے بھی مطمئن نہیں چشم اداس خواب سے بھی مطمئن نہیں کس عمر میں نہ جانے قناعت پسند ہو یہ دل کہ دستیاب سے بھی مطمئن نہیں اب تیرے خد و خال پہ کیا اکتفا کرے یہ آنکھ ماہتاب سے بھی مطمئن نہیں بس یوں ہی بے قراری کی لت میں ہوں مبتلا ویسے میں اضطراب سے بھی مطمئن نہیں میرے ...

مزید پڑھیے

تمہارے ہجر کا صدقہ اتار پھینکتا ہے

تمہارے ہجر کا صدقہ اتار پھینکتا ہے دلیر شخص ہے خواہش کو مار پھینکتا ہے بڑے بڑوں کو ٹھکانے لگا دیا اس نے یہ عشق لاش بھی صحرا کے پار پھینکتا ہے یہ کیسے شخص کے ہاتھوں میں دے دیا خود کو فلک کی سمت مجھے بار بار پھینکتا ہے میں جانتا ہوں محبت کی فصل بوئے گا زمیں پہ اشک جو زار و قطار ...

مزید پڑھیے

فاختہ شاخ سے اڑتے ہوئے گھبرائی تھی

فاختہ شاخ سے اڑتے ہوئے گھبرائی تھی جب پرندوں کے بلکنے کی صدا آئی تھی آبلے میری زباں پر ہیں تو حیرت کیسی میں نے اک بار تری جھوٹی قسم کھائی تھی کب یہ سوچا تھا برابر سے گزر جائے گا میری جس شخص سے برسوں کی شناسائی تھی اب وہ کہتا ہے کہ زنجیر بنی میرے لیے اس کے پیروں میں جو پائل کبھی ...

مزید پڑھیے

بھنور سے ناؤ کے پلڑے بچانے پڑتے ہیں

بھنور سے ناؤ کے پلڑے بچانے پڑتے ہیں مجھے یہ لوگ کنارے لگانے پڑتے ہیں سو اتنا سہل محبت کو لے نہ شہزادی گداز پوروں سے کانٹے اٹھانے پڑتے ہیں کبھی جو حال کو چہرے سے بھانپ لیتا تھا اب اس کو رنج بھی رو کر بتانے پڑتے ہیں ہماری شاخوں تک آتی ہے جب خزاں کی شنید ہم ایسے پیڑوں کو پتے گرانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3882 سے 4657