گھٹا زلفوں کی جب سے اور کالی ہوتی جاتی ہے
گھٹا زلفوں کی جب سے اور کالی ہوتی جاتی ہے رخ روشن کی تابانی مثالی ہوتی جاتی ہے مرے بخت سیہ کے حاشیے پر روشنی سی ہے مری تاریک شب کچھ پھر اجالی ہوتی جاتی ہے اٹھے جاتے ہیں دیدہ ور سبھی آہستہ آہستہ یہ دنیا معتبر لوگوں سے خالی ہوتی جاتی ہے وہ میری انجمن پر رنگ برساتے ہیں کچھ ایسا کہ ...