شاعری

گھٹا زلفوں کی جب سے اور کالی ہوتی جاتی ہے

گھٹا زلفوں کی جب سے اور کالی ہوتی جاتی ہے رخ روشن کی تابانی مثالی ہوتی جاتی ہے مرے بخت سیہ کے حاشیے پر روشنی سی ہے مری تاریک شب کچھ پھر اجالی ہوتی جاتی ہے اٹھے جاتے ہیں دیدہ ور سبھی آہستہ آہستہ یہ دنیا معتبر لوگوں سے خالی ہوتی جاتی ہے وہ میری انجمن پر رنگ برساتے ہیں کچھ ایسا کہ ...

مزید پڑھیے

قریب سے نہ گزر انتظار باقی رکھ

قریب سے نہ گزر انتظار باقی رکھ قرابتوں کا مگر اعتبار باقی رکھ بکھرنا ہے تو فضا میں بکھیر دے خوشبو حیا نظر میں قدم میں وقار باقی رکھ ہمیں ہمارے ہی خوابوں سے کون روکے گا کھینچا ہوا ہے جو خط حصار باقی رکھ ترا وجود عبارت ہے خوش ادائی سے کشیدہ قامتیٔ خوش گوار باقی رکھ خزاں سے صلح ...

مزید پڑھیے

حرف لرزاں ہیں کہ ہونٹوں پہ وہ آئیں کیسے؟

حرف لرزاں ہیں کہ ہونٹوں پہ وہ آئیں کیسے؟ راہ میں آہوں کے شعلے ہیں بجھائیں کیسے؟ وضع داری کے وہ پہرے ہیں کہ اے جذبۂ دل سنگ اور آئنہ اک ساتھ اٹھائیں کیسے؟ وہ مناظر جو طبیعت کو جواں رکھتے ہیں اے خزاں اب ترے ہاتھوں سے بچائیں کیسے؟ خشک آنکھوں میں اترنے سے بھلا کیا ہوگا دل ہے صد ...

مزید پڑھیے

غم یہ نہیں کہ غم سے ملاقات ہوئی

غم یہ نہیں کہ غم سے ملاقات ہوئی غم ہے کہ راہ غم میں خرافات ہو گئی میں اہتمام مجلس آداب میں رہا کیوں لوگ اٹھ گئے ہیں یہ کیا بات ہو گئی ماحول جب تمازت خورشید میں ہوا رت جانے کیوں بدل گئی برسات ہو گئی وہ واقعہ جو روح کی گہرائیوں میں تھا وہ بات اب تو نذر حکایات ہو گئی تنہا تھی میری ...

مزید پڑھیے

شور احساس میں ایسا ہے کہ محشر کہئے

شور احساس میں ایسا ہے کہ محشر کہئے ہر نئے شہر کو چیخوں کا سمندر کہئے دن کا صحرا یہ سیہ دھوپ کے امنڈے لشکر دل کو تپتے ہوئے نیزے پہ گل تر کہئے وہ ہیں آکاش کا منظر کئی رنگوں کی طرح بند شیشوں میں مجھے کرب کا دفتر کہئے تم سہی پھر بھی تو مرجھا گئے جھیلوں میں کنول ان ہواؤں کو دبی آگ کی ...

مزید پڑھیے

مہکے ہوئے گلوں کا چمن بولنے لگا

مہکے ہوئے گلوں کا چمن بولنے لگا وہ چپ ہوا تو اس کا بدن بولنے لگا آنچل ہے کہکشاں تو وہ خود بھی ہے چاند سا باہوں میں میری آ کے گگن بولنے لگا تابانیوں میں اس کی ہے موج وفا کی گونج دن چپ ہوا تو دل کا رتن بولنے لگا بولی گئی تھی درد کے موسم میں جو کبھی پھر وہ زبان اپنا وطن بولنے ...

مزید پڑھیے

دشت سے پتھر اٹھا کر شہر میں لائے ہو کیوں

دشت سے پتھر اٹھا کر شہر میں لائے ہو کیوں یہ لہو مانگیں گے تم سے خود پہ اترائے ہو کیوں خشک ہے دل کا کنول سانسوں میں غم کی آگ ہے جب برسنا ہی نہیں ہے بادلوں چھائے ہو کیوں مے کے ساغر ہیں اگر غم کو مٹانے کا علاج اے نئے موسم کے پھولو پی کے مرجھائے ہو کیوں اب تو خاموشی تمہاری خار سی ...

مزید پڑھیے

ممکن نہ تھی جو بات وہی بات ہو گئی

ممکن نہ تھی جو بات وہی بات ہو گئی دریا مجھے ملا تو مری پیاس کھو گئی جب تک تمہارا ذکر رہا جاگتی رہی پھر وہ حسین رات بھی محفل میں سو گئی سایا تمہاری یاد کا اب میرے ساتھ ہے دنیا تو اک ندی تھی سمندر میں کھو گئی تیرا خیال آیا تو محسوس یہ ہوا خوشبو ترے بدن کی مرے ساتھ ہو گئی شاید یہ ...

مزید پڑھیے

خواب کیا ہیں شراب کی جھیلیں

خواب کیا ہیں شراب کی جھیلیں نیند آئے تو ہم ذرا پی لیں ایک سورج ہزارہا کرنیں کھل گئی ہیں حیات کی ریلیں تیز مغرب کی ہو گئی ہے ہوا تھرتھرانے لگی ہیں قندیلیں شہر کی گرد ہی لپٹ جائے کوئی اپنا ملے تو ہم جی لیں فرط غم سے چٹخ گئے الفاظ کیسے نکلیں گی روح سے کیلیں یہ بھی گھر ہو گیا ہے ...

مزید پڑھیے

پہچان زندگی کی سمجھ کر میں چپ رہا

پہچان زندگی کی سمجھ کر میں چپ رہا اپنے ہی پھینکتے رہے پتھر میں چپ رہا لمحے اندھیرے دشت میں پیتے رہے مجھے مجھ میں تھا روشنی کا سمندر میں چپ رہا میرے لہو کے رنگ کا ایسا اثر ہوا منصف سے بولتا رہا خنجر میں چپ رہا بوجھل اداس رات تھی خاموش تھی ہوا پھولوں کی آگ میں جلا بستر میں چپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3881 سے 4657