تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر
تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر وہ دن کو خاک جاگے گا جاگے جو رات بھر فکر معاش نے انہیں قصہ بنا دیا سجتی تھیں اپنی محفلیں آگے جو رات بھر وہ دن کی روشنی میں پریشان ہو گیا سلجھا رہا تھا بخت کے دھاگے جو رات بھر کیا کیا نہ پیاس جاگے مرے دل کے دشت میں حسرت بھی ایک آگ ہے لاگے جو ...