شاعری

تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر

تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر وہ دن کو خاک جاگے گا جاگے جو رات بھر فکر معاش نے انہیں قصہ بنا دیا سجتی تھیں اپنی محفلیں آگے جو رات بھر وہ دن کی روشنی میں پریشان ہو گیا سلجھا رہا تھا بخت کے دھاگے جو رات بھر کیا کیا نہ پیاس جاگے مرے دل کے دشت میں حسرت بھی ایک آگ ہے لاگے جو ...

مزید پڑھیے

کہیں جمال پذیری کی حد نہیں رکھتا

کہیں جمال پذیری کی حد نہیں رکھتا میں بڑھ رہا ہوں تسلسل سے قد نہیں رکھتا یہ قبل و بعد کے اس پار کی حکایت ہے مرا دوام ازل اور ابد نہیں رکھتا وہ ایک ہو کے بھی ہم سے گنا نہیں جاتا وہ ایک ہو کے بھی آگے عدد نہیں رکھتا یہ عمر بھر کی ریاضت مرا مقدر ہے تراشتا ہوں جسے خال و خد نہیں ...

مزید پڑھیے

کب کہاں کیا مرے دل دار اٹھا لائیں گے

کب کہاں کیا مرے دل دار اٹھا لائیں گے وصل میں بھی دل بے زار اٹھا لائیں گے چاہئے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ ہم تو بازار کے بازار اٹھا لائیں گے یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے ایک مصرعے سے زیادہ تو نہیں بار وجود تم پکارو گے تو ہر بار ...

مزید پڑھیے

رات وحشت سے گریزاں تھا میں آہو کی طرح

رات وحشت سے گریزاں تھا میں آہو کی طرح پاؤں پڑتی رہی زنجیر بھی گھنگرو کی طرح اب ترے لوٹ کے آنے کی کوئی آس نہیں تو جدا مجھ سے ہوا آنکھ سے آنسو کی طرح اب ہمیں اپنی جہالت پہ ہنسی آتی ہے ہم کبھی خود کو سمجھتے تھے ارسطو کی طرح ہاں تجھے بھی تو میسر نہیں تجھ سا کوئی ہے ترا عرش بھی ویراں ...

مزید پڑھیے

نمو پزیر ہوں ہر دم کہ مجھ میں دم ہے ابھی

نمو پزیر ہوں ہر دم کہ مجھ میں دم ہے ابھی مرا مقام ہے جو بھی وہ مجھ سے کم ہے ابھی تراش اور بھی اپنے تصور رب کو ترے خدا سے تو بہتر مرا صنم ہے ابھی نہیں ہے غیر کی تسبیح کا کوئی امکاں مرے لبوں پہ تو ذکر منم منم ہے ابھی ترابؔ پر کہاں ہوتا ہے یہ خدا کا خلا مرے وجود کے اندر کہیں عدم ہے ...

مزید پڑھیے

آسمانوں میں بھی دروازہ لگا کر دیکھیں

آسمانوں میں بھی دروازہ لگا کر دیکھیں قامت حسن کا اندازہ لگا کر دیکھیں عشق تو اپنے لہو میں ہی سنورتا ہے سو ہم کس لیے رخ پہ کوئی غازہ لگا کر دیکھیں عین ممکن ہے کہ جوڑے سے زیادہ مہکے اپنے کالر میں گل تازہ لگا کر دیکھیں بازگشت اپنی ہی آواز کی الہام نہ ہو وادئ ذات میں آوازہ لگا کر ...

مزید پڑھیے

کوئی تصویر یہاں آئنہ خانوں میں نہیں

کوئی تصویر یہاں آئنہ خانوں میں نہیں اب ہدف کون ہو جب تیر کمانوں میں نہیں بے حسی جبر مسلسل کا نتیجہ ٹھہری حرف مصلوب ہوئے نطق زبانوں میں نہیں لوگ کچھ اتنے حقیقت کے پرستار ہوئے یعنی وہ شخص نیا ہے جو پرانوں میں نہیں ہم کہ ماضی بھی ہیں امروز بھی ہیں فردا بھی ہم سبھی کچھ ہیں مگر قید ...

مزید پڑھیے

مصروف ہم بھی انجمن آرائیوں میں تھے

مصروف ہم بھی انجمن آرائیوں میں تھے گھر جل رہا تھا لوگ تماشائیوں میں تھے کتنی جراحتیں پس احساس درد تھیں کتنے ہی زخم روح کی گہرائیوں میں تھے کچھ خواب تھے جو ایک سے منظر کا عکس تھے! کچھ شعبدے بھی اس کی مسیحائیوں میں تھے تپتی زمیں پہ اڑتے بگولوں کا رقص تھا سات آسمان قہر کی ...

مزید پڑھیے

دیکھے بھالے رستے تھے

دیکھے بھالے رستے تھے پھر بھی لوگ بھٹکتے تھے دریا صحرا اور سراب منظر سارے پھیکے تھے اک سنجوگ کا قصہ تھا کتنے بندھن ٹوٹے تھے دل تو اس کا اجلا تھا لیکن کپڑے میلے تھے نظریں دھندلی دھندلی تھیں چہرے نیلے پیلے تھے گلیاں کوچے سب جل تھل ٹوٹ کے بادل برسے تھے کتنے چاند گہن میں ...

مزید پڑھیے

شکایت ہے بہت لیکن گلا اچھا نہیں لگتا

شکایت ہے بہت لیکن گلا اچھا نہیں لگتا دلوں کی بات ہے کم حوصلہ اچھا نہیں لگتا نمی آنکھوں میں سوز دل کا عنوان تکلم ہے مگر خاموش اشکوں کا صلہ اچھا نہیں لگتا ادھر آنا نہ جانا ہی ادھر گم کردہ راہی ہے تذبذب کا مجھے یہ مرحلہ اچھا نہیں لگتا مسرت اور غم دونوں کی کوئی حد ضروری ہے کسی بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3880 سے 4657