شاعری

ناقوس کی صداؤں سے اور نہ اذان سے

ناقوس کی صداؤں سے اور نہ اذان سے نفرت ہے اس کو ملک کے امن و امان سے ملت فروش کو کسی ملت سے کیا غرض اس کو تو ہے غرض فقط اپنی دکان سے چھلنی جو کر گیا تھا اجودھیا کو رام کی نکلا تھا تیر وہ بھی اسی کی کمان سے اپنا بنا کے آپ نے یہ کیا غضب کیا بیگانہ کر دیا مجھے سارے جہان سے دل کو انہیں ...

مزید پڑھیے

جس کو دیکھو وہ گرفتار بلا لگتا ہے

جس کو دیکھو وہ گرفتار بلا لگتا ہے شہر کا شہر ہی آسیب زدہ لگتا ہے مچھلیاں ساری سمندر کی لرز اٹھتی ہیں کوئی تنکا بھی اگر تنکے سے جا لگتا ہے خود کو دنیا سے ہنر مند سمجھنے والو گھر سے نکلو تو حقیقت کا پتا لگتا ہے دوستی پیار وفا ساتھ نبھانے کی قسم ہر عمل اس کا بناوٹ سے بھرا لگتا ...

مزید پڑھیے

فلک پر کوئی سازش ہو رہی ہے

فلک پر کوئی سازش ہو رہی ہے سمندر پر ہی بارش ہو رہی ہے ہٹائے جا رہے ہیں کام کے لوگ نکموں پر نوازش ہو رہی ہے دبایا جا رہا ہے خوبیوں کو جہالت کی نمائش ہو رہی ہے برائی چل رہی ہے پیٹھ پیچھے مگر منہ پر ستائش ہو رہی ہے نوازا جا رہا ہے دشمنوں کو وفاداروں سے پرسش ہو رہی ہے عتیقؔ اب چل ...

مزید پڑھیے

ترے التفات کی بات تھی تری بے رخی کے گلے نہ تھے

ترے التفات کی بات تھی تری بے رخی کے گلے نہ تھے تجھے شاید اس کی خبر تو ہو کہ ہمارے ہونٹ سلے نہ تھے کسی اہل درد سے پوچھیے ذرا اس چمن کا معاملہ وہ چمن کہ فصل بہار میں بھی جہاں پہ پھول کھلے نہ تھے یہ رہ طلب کی مسافتیں کہیں خار ہے کہیں دار ہے سر کوئے یار کھڑے تھے یوں کہ قدم ہمارے ہلے نہ ...

مزید پڑھیے

آنے والی کل کی دے کر خبر گیا یہ دن بھی

آنے والی کل کی دے کر خبر گیا یہ دن بھی ماہ وصال کی شریانوں میں اتر گیا یہ دن بھی لمحہ لمحہ ساعت ساعت پل پل میں تقسیم ہوا ریزہ ریزہ ہوتے ہوتے بکھر گیا یہ دن بھی اس کی تابانی پر کتنے ہی سورج قربان ہوئے اپنے ہونے کا دکھ سہہ کر مگر گیا یہ دن بھی سرد ہوا کا جھونکا تھا جو سناٹو کو چیر ...

مزید پڑھیے

وہ چاند تھا بادلوں میں گم تھا

وہ چاند تھا بادلوں میں گم تھا وہ عکس تھا پانیوں میں گم تھا دستک کی صدا تو آ رہی تھی میں اپنے ہی واہموں میں گم تھا چہرے پہ محبتیں سجی تھیں دل اپنی ہی نفرتوں میں گم تھا مٹی میں نمی کہاں سے آتی پانی تو سمندروں میں گم تھا دربار میں کرسیاں سجی تھیں ہر شخص عقیدتوں میں گم تھا اس عہد ...

مزید پڑھیے

دل نہ دے ساتھ تو غم کیسے سہا جائے گا

دل نہ دے ساتھ تو غم کیسے سہا جائے گا کہ اسی گھر میں یہ سیلاب بلا جائے گا اک مسافر ہے وہ اس کی کوئی منزل ہی نہیں جس طرف بھی قدم اٹھیں گے چلا جائے گا میں تو اس جبر مسلسل میں بھی لب بستہ نہیں یوں سمجھ لے ترا ہر تیر خطا جائے گا برف پگھلے گی تو موسم بھی بدل جائیں گے پو پھٹے گی تو اجالا ...

مزید پڑھیے

بستی بستی گھور اندھیرا سونا سونا جادہ تھا

بستی بستی گھور اندھیرا سونا سونا جادہ تھا شب کے پچھلے پہر کا سناٹا کچھ اور زیادہ تھا صحن چمن میں روش روش پر آس کے پھول اگائے تھے لیکن یہ محسوس ہوا ہر منظر پیش افتادہ تھا لفظ کوئی آسیب نہ تھے لوگ اس کی صدا سے کیوں ڈرتے وقت کے اندھے کنوئیں کا یہ آشوب تو سیدھا سادہ تھا جیتے جاگتے ...

مزید پڑھیے

انجانے لوگوں کو ہر سو چلتا پھرتا دیکھ رہا ہوں

انجانے لوگوں کو ہر سو چلتا پھرتا دیکھ رہا ہوں کیسی بھیڑ ہے پھر بھی خود کو تنہا تنہا دیکھ رہا ہوں دیواروں سے روزن روزن کیا کیا منظر ابھرے ہیں سورج کو بھی دور افق پر جلتا بجھتا دیکھ رہا ہوں جس کو اپنا روپ دیا اور جس کے ہر دم خواب بنے کب سے میں اس آنے والے کل کا رستا دیکھ رہا ...

مزید پڑھیے

روشنی کے سلسلے خوابوں میں ڈھل کر رہ گئے

روشنی کے سلسلے خوابوں میں ڈھل کر رہ گئے جتنے منظر تھے سرابوں میں بدل کر رہ گئے شعبدے ہی شعبدے پھر تالیاں ہی تالیاں ہم ہی ناداں تھے کھلونوں سے بہل کر رہ گئے دیکھتے ہی دیکھتے بازار خالی ہو گیا لوگ اپنی ہی صداؤں سے دہل کر رہ گئے وہ تمازت تھی کہ جنگل بھی دھواں دینے لگے لہلہاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3878 سے 4657