شاعری

افسانۂ غم یوں بھی دل زار کہا ہے

افسانۂ غم یوں بھی دل زار کہا ہے اک بار جو پوچھا ہے تو سو بار کہا ہے جو بات تری بزم میں ہم کہہ نہ سکے تھے اس بات کو لوگوں نے سر دار کہا ہے ممنون ہیں اس شوخ کے اے باد صبا ہم پھولوں کی زبانی جو ہمیں پیار کہا ہے ممکن ہے اسی راہ سے منزل پہ پہنچ جائیں دل والوں نے جس راہ کو دشوار کہا ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کتنی روایتیں منہدم ہوئیں ہیں

نہ جانے کتنی روایتیں منہدم ہوئیں ہیں بپا جہاں بھی ہے شور محشر کھڑا ہوا ہوں یہ کیسا منظر ہے اس کو کس زاویے سے دیکھوں کہ خود بھی اس دائرے کے اندر کھڑا ہوا ہوں اب اس نظارے کی تاب لاؤں تو کیسے لاؤں وہی ہے میدان وہی ہے لشکر کھڑا ہوا ہوں ہزار طوفان برق و باراں ہیں ساحلوں پر لیے ہوئے ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے ہوئے پیڑ گن رہا ہوں

ٹوٹے ہوئے پیڑ گن رہا ہوں میں اپنے پروں کو دیکھتا ہوں لب بستہ ہوں پھر بھی بولتا ہوں یار خود سے نبرد آزما ہوں بستی کوئی رہ نہ جائے باقی در در پہ صدا لگا چکا ہوں ہونٹوں پہ سکوت خامشی ہے لمحوں کے حصار میں گھرا ہوں رستے ہیں تمام اٹے اٹے سے میں کیسے کہوں گریز پا ہوں اے نہر فرات دے ...

مزید پڑھیے

بیٹھا ہوں اپنے گوشۂ عزلت میں شام سے

بیٹھا ہوں اپنے گوشۂ عزلت میں شام سے خط لکھ رہا ہوں اس کو بڑے اہتمام سے ماتھے کی یہ شکن کہیں پہلو بدل نہ لے تم خود ہی گر پڑھو کہیں اپنے مقام سے ترکش میں کوئی تیر جو باقی نہیں تو کیا کہہ دو کہ ہاتھ کھینچ لیا انتقام سے وہ لوگ جو خدا کے غضب سے ڈرے نہ تھے تھرا اٹھے ہیں آج مگر تیرے نام ...

مزید پڑھیے

گھر کی صورت جو بھی ہو اس پر ہراساں میں نہیں

گھر کی صورت جو بھی ہو اس پر ہراساں میں نہیں در مقفل ہیں تو دیواروں سے لرزاں میں نہیں تجھ میں ہمت ہے سو پھر شیشے میں مجھ کو بھی اتار ہاں مگر یہ جان لے اتنا بھی آساں میں نہیں نفرتوں کی تہ میں کتنی چاہتیں ہیں یہ تو سوچ تو گریزاں ہو تو ہو تجھ سے گریزاں میں نہیں روشنی دل میں اگر ہو اک ...

مزید پڑھیے

وجہ قرار و راحت دل زدگاں ہے تو کہ میں

وجہ قرار و راحت دل زدگاں ہے تو کہ میں لفظ یقیں ہے تو کہ میں حرف گماں ہے تو کہ میں تیرا بھی آستاں وہی میرا بھی آشیاں وہی اس کی سحر ہے تو کہ میں اس کی اذاں ہے تو کہ میں جس کی تراش کے لئے خود کو لہو لہو کیا اب اسی رہ گزار کا سنگ گراں ہے تو کہ میں اپنی خبر سے بے خبر اپنی ہی ذات سے ...

مزید پڑھیے

ضبط الفت کا یہی ہم کو صلا مل جائے

ضبط الفت کا یہی ہم کو صلا مل جائے دشت میں اور کوئی آبلہ پا مل جائے آگہی اور کئی نقش بنا سکتی ہے تم جو انسان کو ڈھونڈو تو خدا مل جائے یہی بہتر ہے کہ خود راہ میں گم ہو جائیں اس سے پہلے کہ کوئی راہنما مل جائے آؤ زنجیر کی جھنکار پہ ہم رقص کریں کیا تعجب جو یوں ہی جنس وفا مل جائے اسی ...

مزید پڑھیے

دل لگانا چاہئے چل کر کسی حیوان سے

دل لگانا چاہئے چل کر کسی حیوان سے درجہا بہتر ہیں یہ اس دور کے انسان سے برکتیں جو اٹھ گئی ہیں آج دسترخوان سے میزباں ڈرنے لگے ہیں آمد مہمان سے فصل بوئی جائے گی سنتے ہیں اب مریخ پر دوریاں یوں بڑھ رہی ہیں کھیت سے کھلیان سے کر لیا ہے سب نے جائز ہر عمل اس کھیل میں گرم رکھیں گے سیاست ...

مزید پڑھیے

الفاظ نہ دے پائیں اگر ساتھ بیاں کا

الفاظ نہ دے پائیں اگر ساتھ بیاں کا آنکھوں سے بھی لے لیتے ہیں وہ کام زباں کا قاتل کی جبیں پر ہیں پسینے کی لکیریں شاید کہ اثر ہے یہ مری آہ و فغاں کا آنگن ہے نہ ڈیوڑھی نہ چنبیلی کا وہ منڈوا شہروں نے بدل ڈالا ہے مفہوم مکاں کا آئے ہو تو کچھ دیر ٹھہر جاؤ یہاں بھی ہم بھی تو مزہ لیں ذرا ...

مزید پڑھیے

کٹی ہے عمر یہاں ایک گھر بنانے میں

کٹی ہے عمر یہاں ایک گھر بنانے میں حیا نہ آئی تمہیں بستیاں جلانے میں بنا دیا تھا جہاں کو خدا نے کن کہہ کر کروڑوں سال لگے ہیں اسے بسانے میں فریب دے کے تمہیں کیا سکون ملتا ہے ہمیں تو لطف ملا ہے فریب کھانے میں عطا ہو دولت ایماں ہمیں بھی بے پایاں کمی نہیں ہے خدایا ترے خزانے میں ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3877 سے 4657