شاعری

رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا

رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا خلد بھی جس پہ ہو قرباں وہ دیار آ ہی گیا یہ جنوں زار مرا میرے غزالوں کا جہاں میرا نجد آ ہی گیا میرا تتار آ ہی گیا آج پھرتا بہ چمن درپئے گل ہائے چمن گنگناتا ہوا زنبور بہار آ ہی گیا گیسوؤں والوں میں ابرو کے کماں داروں میں ایک صید آ ہی گیا ایک شکار آ ہی ...

مزید پڑھیے

جگر اور دل کو بچانا بھی ہے

جگر اور دل کو بچانا بھی ہے نظر آپ ہی سے ملانا بھی ہے محبت کا ہر بھید پانا بھی ہے مگر اپنا دامن بچانا بھی ہے جو دل تیرے غم کا نشانہ بھی ہے قتیل جفائے زمانہ بھی ہے یہ بجلی چمکتی ہے کیوں دم بدم چمن میں کوئی آشیانہ بھی ہے خرد کی اطاعت ضروری سہی یہی تو جنوں کا زمانا بھی ہے نہ دنیا ...

مزید پڑھیے

جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے

جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے مگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے بہت کچھ اور بھی ہے اس جہاں میں یہ دنیا محض غم ہی غم نہیں ہے تقاضے کیوں کروں پیہم نہ ساقی کسے یاں فکر بیش و کم نہیں ہے ادھر مشکوک ہے میری صداقت ادھر بھی بد گمانی کم نہیں ...

مزید پڑھیے

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے اس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے یاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے آشفتگیٔ وحشت کی قسم حیرت کی قسم حسرت کی قسم اب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں ہم راز ...

مزید پڑھیے

دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیں

دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیں یہ کس کی آہیں یہ کس کے نالے تمام عالم پہ چھا رہے ہیں نقاب رخ سے اٹھا چکے ہیں کھڑے ہوئے مسکرا رہے ہیں میں حیرتئ ازل ہوں اب بھی وہ خاک حیراں بنا رہے ہیں ہوائیں بے خود فضائیں بے خود یہ عنبر افشاں گھٹائیں بے خود مژہ نے چھیڑا ہے ساز دل ...

مزید پڑھیے

آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیں

آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیں ہر گل و لالہ کو رقصاں و غزل خواں کر دیں عقل ہے فتنۂ بیدار سلا دیں اس کو عشق کی جنس گراں مایہ کو ارزاں کر دیں دست وحشت میں یہ اپنا ہی گریباں کب تک ختم اب سلسلۂ چاک گریباں کر دیں خون آدم پہ کوئی حرف نہ آنے پائے جنہیں انساں نہیں کہتے انہیں انساں ...

مزید پڑھیے

نہیں یہ فکر کوئی رہبر کامل نہیں ملتا

نہیں یہ فکر کوئی رہبر کامل نہیں ملتا کوئی دنیا میں مانوس مزاج دل نہیں ملتا کبھی ساحل پہ رہ کر شوق طوفانوں سے ٹکرائیں کبھی طوفاں میں رہ کر فکر ہے ساحل نہیں ملتا یہ آنا کوئی آنا ہے کہ بس رسماً چلے آئے یہ ملنا خاک ملنا ہے کہ دل سے دل نہیں ملتا شکستہ پا کو مژدہ خستگان راہ کو مژدہ کہ ...

مزید پڑھیے

کھڑا ہوں دھوپ میں سائے کی جستجو بھی نہیں

کھڑا ہوں دھوپ میں سائے کی جستجو بھی نہیں یہ کیا ستم ہے کہ اب تیری آرزو بھی نہیں مجھے تو آج بھی تجھ پر یقین ہے لیکن ترے دیار میں انساں کی آبرو بھی نہیں ابھی تو مے کدہ ویراں دکھائی دیتا ہے ابھی تو وجد میں پیمانہ و سبو بھی نہیں تری نگاہ میں چاہت کہاں تلاش کروں تری سرشت میں شاید وفا ...

مزید پڑھیے

یوں تو وہ مجھ سے سوا میرا بھلا چاہتا ہے

یوں تو وہ مجھ سے سوا میرا بھلا چاہتا ہے جانے کیوں چاہتا ہے مجھ سے وہ کیا چاہتا ہے سالہا سال سے میں تو سفر خواب میں ہوں وہی ناداں ہے کہ تعبیر وفا چاہتا ہے ہجر کی رات میں بھی درد کے آشوب میں بھی دل اسے چاہتا رہتا ہے سدا چاہتا ہے کس طرح سے دل وحشی کو بھلا سمجھاؤں وہ تو ہر دام جدا رنگ ...

مزید پڑھیے

پہلے تو نہ تھی اتنی تب و تاب غزل میں

پہلے تو نہ تھی اتنی تب و تاب غزل میں کام آ گئی غم خوارئ‌ احباب غزل میں دل پر سے ترے غم کا ابھی ابر چھٹا ہے چمکا ہے تری یاد کا مہتاب غزل میں یاروں کو کسی طور بھی نشہ نہیں ہوتا جب تک کہ نہ شامل ہو مئے ناب غزل میں جس سے خلش درد کا آغاز ہوا ہے رقصاں ہے وہی پیکر سیماب غزل میں ہر مصرعۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3876 سے 4657