رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا
رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا خلد بھی جس پہ ہو قرباں وہ دیار آ ہی گیا یہ جنوں زار مرا میرے غزالوں کا جہاں میرا نجد آ ہی گیا میرا تتار آ ہی گیا آج پھرتا بہ چمن درپئے گل ہائے چمن گنگناتا ہوا زنبور بہار آ ہی گیا گیسوؤں والوں میں ابرو کے کماں داروں میں ایک صید آ ہی گیا ایک شکار آ ہی ...