شاعری

درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی

درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی ہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقی سخت جاں ہی نہیں ہم خود سر و خود دار بھی ہیں ناوک ناز خطا ہے تو خطا ہو ساقی سعئ تدبیر میں مضمر ہے اک آہ جاں سوز اس کا انعام سزا ہو کہ جزا ہو ساقی سینۂ شوق میں وہ زخم کہ لو دے اٹھے اور بھی تیز زمانے کی ہوا ہو ساقی

مزید پڑھیے

سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں

سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں ہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیں تاثیر جذب شوق دکھائے ہوئے تو ہیں ہم تیرا ہر حجاب اٹھائے ہوئے تو ہیں ہاں کیا ہوا وہ حوصلۂ دید اہل دل دیکھو نا وہ نقاب اٹھائے ہوئے تو ہیں تیرے گناہ گار گناہ گار ہی سہی تیرے کرم کی آس لگائے ہوئے تو ہیں اللہ ...

مزید پڑھیے

آسماں گردش میں تھا ساری زمیں چکر میں تھی

آسماں گردش میں تھا ساری زمیں چکر میں تھی زلزلے کے قہر کی تصویر ہر منظر میں تھی آپسی ٹکراؤ نے آخر نمایاں کر دیا ایک چنگاری جو برسوں سے دبی پتھر میں تھی میں اکیلا مر رہا تھا گھر مرا سنسان تھا رونق خانہ رفیق زندگی دفتر میں تھی کر دیا تھا بیوگی کے کرب نے گرچہ نڈھال جلتی بجھتی آنچ ...

مزید پڑھیے

پھولوں سے بہاروں میں جدا تھے تو ہمیں تھے

پھولوں سے بہاروں میں جدا تھے تو ہمیں تھے کانٹوں کی چبھن پہ بھی فدا تھے تو ہمیں تھے بازار تمنا میں تو ہر شخص مگن تھا ہر موڑ پہ دنیا سے خفا تھے تو ہمیں تھے جس بت کو تصور میں خدا مان لیا تھا اس بت کی نگاہوں میں خدا تھے تو ہمیں تھے احباب کو حالات کی سازش کا گلا تھا ہر حال میں راضی بہ ...

مزید پڑھیے

غم کے بادل دل ناشاد پہ ایسے چھائے

غم کے بادل دل ناشاد پہ ایسے چھائے سایۂ گل میں بھی ہم راز نہ ہنسنے پائے یوں تصور میں دبے پاؤں تری یاد آئی جس طرح شام کی بانہوں میں ستارے آئے وقت کی دھوپ میں ہم سایۂ حسرت بن کر دو گھڑی کوئے تمنا میں نہ چلنے پائے زندگی موج تلاطم کی طرح رک نہ سکی یوں تو ہر موڑ پہ طوفان ہزاروں آئے اس ...

مزید پڑھیے

جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہوگا

جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہوگا ہمدم مری قسمت کا ستارہ بھی تو ہوگا یہ سوچ کے اس شہر میں ہم آئے تھے شاید اے جان طلب کوئی ہمارا بھی تو ہوگا ہم عشق کی منزل میں خطاوار ہیں لیکن پہلے تری جانب سے اشارہ بھی تو ہوگا ہم گردش گرداب الم سے نہیں ڈرتے طوفاں ہے اگر آج کنارہ بھی تو ہوگا

مزید پڑھیے

یہ میری دنیا یہ میری ہستی

یہ میری دنیا یہ میری ہستی نغمہ طرازی صہبا پرستی شاعر کی دنیا شاعر کی ہستی یا نالۂ غم یا شور مستی سب سے گریزاں سب پر برستی آنکھوں کی مستی مہنگی نہ سستی یا خلد و ساقی اے جذب مستی یا ٹکڑے ٹکڑے دامان ہستی محو سفر ہوں گرم سفر ہوں میری نظر میں رفعت نہ پستی ان انکھڑیوں کا عالم نہ ...

مزید پڑھیے

حسن کو بے حجاب ہونا تھا

حسن کو بے حجاب ہونا تھا شوق کو کامیاب ہونا تھا ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ خون دل بھی شراب ہونا تھا تیرے جلووں میں گھر گیا آخر ذرے کو آفتاب ہونا تھا کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا رات تاروں کا ٹوٹنا بھی مجازؔ باعث اضطراب ہونا تھا

مزید پڑھیے

عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگ

عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگ بے خود سوز و ساز ہیں ہم لوگ جس طرح چاہے چھیڑ دے ہم کو تیرے ہاتھوں میں ساز ہیں ہم لوگ بے سبب التفات کیا معنی کچھ تو اے چشم ناز ہیں ہم لوگ محفل سوز و ساز ہے دنیا حاصل سوز و ساز ہیں ہم لوگ کوئی اس راز سے نہیں واقف کیوں سراپا نیاز ہیں ہم لوگ ہم کو رسوا نہ کر ...

مزید پڑھیے

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ ہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ ملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ اٹھیں گے ابھی اور بھی طوفاں مرے دل سے دیکھوں گا ابھی عشق کے خواب اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3875 سے 4657