مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں
مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں مرے شباب کی قیمت ترا شباب نہیں یہ ماہتاب نہیں ہے کہ آفتاب نہیں سبھی ہے حسن مگر عشق کا جواب نہیں مری نگاہ میں جلوے ہیں جلوے ہی جلوے یہاں حجاب نہیں ہے یہاں نقاب نہیں جنوں بھی حد سے سوا شوق بھی ہے حد سے سوا یہ بات کیا ہے کہ میں مورد عتاب نہیں یہاں ...