شاعری

مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں

مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں مرے شباب کی قیمت ترا شباب نہیں یہ ماہتاب نہیں ہے کہ آفتاب نہیں سبھی ہے حسن مگر عشق کا جواب نہیں مری نگاہ میں جلوے ہیں جلوے ہی جلوے یہاں حجاب نہیں ہے یہاں نقاب نہیں جنوں بھی حد سے سوا شوق بھی ہے حد سے سوا یہ بات کیا ہے کہ میں مورد عتاب نہیں یہاں ...

مزید پڑھیے

شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا

شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا عشق تو رسوا ہو ہی چکا ہے حسن بھی کیا رسوا ہوگا حسن کی بزم خاص میں جا کر اس سے زیادہ کیا ہوگا کوئی نیا پیماں باندھیں گے کوئی نیا وعدہ ہوگا چارہ گری سر آنکھوں پر اس چارہ گری سے کیا ہوگا درد کہ اپنی آپ دوا ہے تم سے کیا اچھا ہوگا واعظ ...

مزید پڑھیے

خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی

خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی ہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئی تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا کس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی دنیا لرز گئی دل حرماں نصیب کی اس طرح ساز عیش نہ چھیڑا کرے کوئی مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی رنگینی نقاب ...

مزید پڑھیے

سارا عالم گوش بر آواز ہے

سارا عالم گوش بر آواز ہے آج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہے تو جہاں ہے زمزمہ پرداز ہے دل جہاں ہے گوش بر آواز ہے ہاں ذرا جرأت دکھا اے جذب دل حسن کو پردے پہ اپنے ناز ہے ہم نشیں دل کی حقیقت کیا کہوں سوز میں ڈوبا ہوا اک ساز ہے آپ کی مخمور آنکھوں کی قسم میری مے خواری ابھی تک راز ہے ہنس ...

مزید پڑھیے

دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھی

دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھی عشق نا پختہ ابھی جذب دروں خام ابھی خود ہی جھکتا ہوں کہ دعوائے جنوں کیا کیجئے کچھ گوارا بھی ہے یہ قید در و بام ابھی یہ جوانی تو ابھی مائل پیکار نہیں یہ جوانی تو ہے رسوائے مے و جام ابھی واعظ و شیخ نے سر جوڑ کے بد نام کیا ورنہ بد نام نہ ہوتی مے گلفام ...

مزید پڑھیے

وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیں

وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیں ورنہ میری نگہ شوق بھی مجبور نہیں خاطر اہل نظر حسن کو منظور نہیں اس میں کچھ تیری خطا دیدۂ مہجور نہیں لاکھ چھپتے ہو مگر چھپ کے بھی مستور نہیں تم عجب چیز ہو نزدیک نہیں دور نہیں جرأت عرض پہ وہ کچھ نہیں کہتے لیکن ہر ادا سے یہ ٹپکتا ہے کہ منظور ...

مزید پڑھیے

آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے

آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے دل کی گہرائیوں سے نکلا ہے میری نظروں میں حشر بھی کیا ہے میں نے ان کا جلال دیکھا ہے جلوۂ طور خواب موسیٰ ہے کس نے دیکھا ہے کس کو دیکھا ہے ہائے انجام اس سفینے کا ناخدا نے جسے ڈبویا ہے آہ کیا دل میں اب لہو بھی نہیں آج اشکوں کا رنگ پھیکا ہے جب بھی آنکھیں ...

مزید پڑھیے

خامشی کا تو نام ہوتا ہے

خامشی کا تو نام ہوتا ہے ورنہ یوں بھی کلام ہوتا ہے عشق کو پوچھتا نہیں کوئی حسن کا احترام ہوتا ہے آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی دل سے دل ہم کلام ہوتا ہے حسن کو شرمسار کرنا ہی عشق کا انتقام ہوتا ہے اللہ اللہ یہ ناز حسن مجازؔ انتظار سلام ہوتا ہے

مزید پڑھیے

سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپنا

سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپنا عشق شادماں اپنا شوق کامراں اپنا آہ بے اثر کس کی نالہ نارسا کس کا کام بارہا آیا جذبۂ نہاں اپنا کب کیا تھا اس دل پر حسن نے کرم اتنا مہرباں اور اس درجہ کب تھا آسماں اپنا الجھنوں سے گھبرائے مے کدے میں در آئے کس قدر تن آساں ہے ذوق رائیگاں اپنا کچھ ...

مزید پڑھیے

عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھا

عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھا عشق کو منزل پستی سے گزر جانا تھا جلوے تھے حلقۂ سر دام نظر سے باہر میں نے ہر جلوے کو پابند نظر جانا تھا حسن کا غم بھی حسیں فکر حسیں درد حسیں ان کو ہر رنگ میں ہر طور سنور جانا تھا حسن نے شوق کے ہنگامے تو دیکھے تھے بہت عشق کے دعوئے تقدیس سے ڈر جانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3874 سے 4657