ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا
ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا نغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا اپنی نظروں میں نشاط جلوۂ خوباں لیے خلوتی خاص سوئے بزم عام آ ہی گیا میری دنیا جگمگا اٹھی کسی کے نور سے میرے گردوں پر مرا ماہ تمام آ ہی گیا جھوم جھوم اٹھے شجر کلیوں نے آنکھیں کھول دیں جانب گلشن کوئی مست خرام ...