شاعری

ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا

ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا نغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا اپنی نظروں میں نشاط جلوۂ خوباں لیے خلوتی خاص سوئے بزم عام آ ہی گیا میری دنیا جگمگا اٹھی کسی کے نور سے میرے گردوں پر مرا ماہ تمام آ ہی گیا جھوم جھوم اٹھے شجر کلیوں نے آنکھیں کھول دیں جانب گلشن کوئی مست خرام ...

مزید پڑھیے

بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا

بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا تبسم کو تبسم کیوں نظر کو کیوں نظر جانا خرد والوں سے حسن و عشق کی تنقید کیا ہوگی نہ افسون نگہ سمجھا نہ انداز نظر جانا مئے گلفام بھی ہے ساز عشرت بھی ہے ساقی بھی بہت مشکل ہے آشوب حقیقت سے گزر جانا غم دوراں میں گزری جس قدر گزری جہاں گزری اور ...

مزید پڑھیے

یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی

یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی اک جہنم مرے سینے میں تپاں ہے ساقی جس نے برباد کیا مائل فریاد کیا وہ محبت ابھی اس دل میں جواں ہے ساقی ایک دن آدم و حوا بھی کیے تھے پیدا وہ اخوت تری محفل میں کہاں ہے ساقی ہر چمن دامن گل رنگ ہے خون دل سے ہر طرف شیون و فریاد و فغاں ہے ساقی ماہ و انجم ...

مزید پڑھیے

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے اور صبر آزما بھی ہوتی ہے روح ہوتی ہے کیف پرور بھی اور درد آشنا بھی ہوتی ہے حسن کو کر نہ دے یہ شرمندہ عشق سے یہ خطا بھی ہوتی ہے بن گئی رسم بادہ خواری بھی یہ نماز اب قضا بھی ہوتی ہے جس کو کہتے ہیں نالۂ برہم ساز میں وہ صدا بھی ہوتی ہے کیا بتا دو مجازؔ کی ...

مزید پڑھیے

رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں

رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں کشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوں کوئی دل سا درد آشنا چاہتا ہوں رہ عشق میں رہنما چاہتا ہوں تجھی سے تجھے چھیننا چاہتا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں خطاؤں پہ جو مجھ کو مائل کرے پھر سزا اور ایسی سزا چاہتا ہوں وہ مخمور نظریں وہ مدہوش آنکھیں خراب محبت ...

مزید پڑھیے

یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتی

یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتی خود وعدۂ فردا کی چھاتی بھی دھڑک جاتی ہونٹوں پہ ہنسی پیہم آتے ہوئے شرماتی اب رات نہیں کٹتی اب نیند نہیں آتی جو اول و آخر تھا وہ اول و آخر ہے میں نالہ بجاں اٹھتا وہ نغمہ بساز آتی سوز شب ہجراں پھر سوز شب ہجراں ہے شبنم بہ مژہ اٹھتی یا زلف دراز ...

مزید پڑھیے

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے وہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے اے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں اے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے اب گل سے نظر ملتی ہی نہیں اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیں اے فصل بہاراں رخصت ہو ہم لطف بہاراں ...

مزید پڑھیے

حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے

حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے دل کی جانب نظر ہے کیا کہئے پھر وہی رہ گزر ہے کیا کہئے زندگی راہ پر ہے کیا کہئے حسن خود پردہ ور ہے کیا کہئے یہ ہماری نظر ہے کیا کہئے آہ تو بے اثر تھی برسوں سے نغمہ بھی بے اثر ہے کیا کہئے حسن ہے اب نہ حسن کے جلوے اب نظر ہی نظر ہے کیا کہئے آج بھی ہے مجازؔ ...

مزید پڑھیے

اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم

اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم ہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہم کیا پوچھتے ہو جھومتے آئے کہاں سے ہم پی کر اٹھے ہیں خمکدۂ آسماں سے ہم کیوں کر ہوا ہے فاش زمانہ پہ کیا کہیں وہ راز دل جو کہہ نہ سکے راز داں سے ہم ہمدم یہی ہے رہ گزر یار خوش خرام گزرے ہیں لاکھ بار اسی کہکشاں سے ہم کیا ...

مزید پڑھیے

کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں

کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں یہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میں تمہیں تو ہو جسے کہتی ہے ناخدا دنیا بچا سکو تو بچا لو کہ ڈوبتا ہوں میں یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں اس اک حجاب پہ سو بے حجابیاں صدقے جہاں سے چاہتا ہوں تم کو دیکھتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3873 سے 4657