شاعری

کب تک تصورات میں دل کو لہو کریں

کب تک تصورات میں دل کو لہو کریں آ اے شب فراق کوئی گفتگو کریں دنیائے حادثات کی نیرنگیوں کی خیر کیونکر نگاہ ناز تری آرزو کریں اپنی وفا کا ذکر تیری بے رخی کی بات تو سن سکے تو آج ترے روبرو کریں پھر بھر گئے ہیں زخم دل ناصبور کے جی چاہتا ہے پھر سے تری جستجو کریں پھیلے ہوئے ہیں ...

مزید پڑھیے

کون ہے کس کا خریدار چلو چھوڑو بھی

کون ہے کس کا خریدار چلو چھوڑو بھی ہیں سبھی رونق بازار چلو چھوڑو بھی کوئی زاہد ہے نہ مے خوار چلو چھوڑو بھی ہیں سبھی صاحب کردار چلو چھوڑو بھی فرق کیا ملزم و منصف میں بتایا جائے ہے یہ بیکار کی تکرار چلو چھوڑو بھی کچھ رسومات کہن ہیں کہ نباہیں کب تک انسیت مخلصی کردار چلو چھوڑو ...

مزید پڑھیے

شب گزیدہ کے گھر نہیں آتی

شب گزیدہ کے گھر نہیں آتی خواب میں بھی سحر نہیں آتی کیا سنیں دیس کی سنائیں کیا کوئی اچھی خبر نہیں آتی آئینہ دوسروں کی جانب ہے اپنی صورت نظر نہیں آتی آپ منہ میں زبان رکھتے ہیں بات کرنی مگر نہیں آتی درس دیتے ہیں وہ محبت کا جن کو زیر و زبر نہیں آتی میری قسمت ہے یا پچھل پیری لوٹ ...

مزید پڑھیے

چپ چاپ حبس وقت کے پنجرے میں مر گیا

چپ چاپ حبس وقت کے پنجرے میں مر گیا جھونکا ہوا کا آتے ہی کمرے میں مر گیا سورج لحاف اوڑھ کے سویا تمام رات سردی سے اک پرندہ دریچے میں مر گیا جو ناخدا کو کہہ نہ سکا عمر بھر خدا وہ شخص کل انا کے جزیرے میں مر گیا ایڈیٹری نے کاٹ دیں تخلیق کی رگیں اچھا بھلا ادیب رسالے میں مر گیا سورج نے ...

مزید پڑھیے

پل دو پل ہے پھر یہ سونا مٹی کا

پل دو پل ہے پھر یہ سونا مٹی کا کر دو مرا تیار بچھونا مٹی کا اک ٹھوکر سے دونوں ٹوٹ کے دیکھتے ہیں تو کانچ کا میں ہوں کھلونا مٹی کا تیرے شیش محل کی چھت بھی شیشے کی میرے گھر کا کونا کونا مٹی کا کتنے معنی رکھتا ہے ذرا غور تو کر کوزہ گر کے ہاتھ میں ہونا مٹی کا آگ کا ہنسنا دیکھ ہوا کے ...

مزید پڑھیے

خود کو کسی کی راہ گزر کس لیے کریں

خود کو کسی کی راہ گزر کس لیے کریں تو ہم سفر نہیں تو سفر کس لیے کریں جب تو نے ہی نگاہ میں رکھا نہیں ہمیں اب اور کسی کی روح میں گھر کس لیے کریں کیوں چھوڑ دیں نہ شام سے پہلے ہی تیرا شہر تجھ سے بچھڑ کے رات بسر کس لیے کریں منسوب جاں ہو اور کوئی پیکر جمال کر سکتے ہیں یہ کام مگر کس لیے ...

مزید پڑھیے

یہی بہت ہے کہ احباب پوچھ لیتے ہیں

یہی بہت ہے کہ احباب پوچھ لیتے ہیں مرے اجڑنے کے اسباب پوچھ لیتے ہیں میں پوچھ لیتا ہوں یاروں سے رت جگوں کا سبب مگر وہ مجھ سے مرے خواب پوچھ لیتے ہیں اسی گلی سے جہاں آفتاب ابھرا ہے کہاں گیا ہے وہ مہتاب، پوچھ لیتے ہیں اب آ گئے ہیں تو اس دشت کے فقیروں سے رموز منبر و محراب پوچھ لیتے ...

مزید پڑھیے

یقین برسوں کا امکان کچھ دنوں کا ہوں

یقین برسوں کا امکان کچھ دنوں کا ہوں میں تیرے شہر میں مہمان کچھ دنوں کا ہوں پھر اس کے بعد مجھے حرف حرف ہونا ہے تمہارے ہاتھ میں دیوان کچھ دنوں کا ہوں کسی بھی دن اسے سر سے اتار پھینکوں گا میں خود پہ بوجھ مری جان کچھ دنوں کا ہوں زمین زادے مری عمر کا حساب نہ کر اٹھا کے دیکھ لے میزان ...

مزید پڑھیے

یہی جو تیرے مرے دل کی راجدھانی تھی

یہی جو تیرے مرے دل کی راجدھانی تھی یہیں کہیں پہ تری اور مری کہانی تھی یہیں کہیں پہ عدو نے پڑاؤ ڈالا تھا یہیں کہیں پہ محبت نے ہار مانی تھی عجیب ساعت بے رنگ میں تو بچھڑا تھا کہ دل لہو تھا مرا اور نہ آنکھ پانی تھی مکاں بدلتے ہوئے ریزہ ریزہ کر ڈالے پرانے خواب تھے تصویر بھی پرانی ...

مزید پڑھیے

اگر یقین نہ رکھتے گمان تو رکھتے

اگر یقین نہ رکھتے گمان تو رکھتے ہم اپنے ہونے کا کوئی نشان تو رکھتے تمام دن جو کڑی دھوپ میں سلگتے ہیں یہ پیڑ سر پہ کوئی سائبان تو رکھتے ہماری بات سمجھ میں تو ان کی آ جاتی ہم اپنے ساتھ کوئی ترجمان تو رکھتے ہمیں سفر کا خسارہ پسند تھا ورنہ مسافرت کی تھکن سر پہ تان تو رکھتے مشاہدات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3871 سے 4657