شاعری

کہاں گئے شب مہتاب کے جمال زدہ

کہاں گئے شب مہتاب کے جمال زدہ اکیلا شہر میں پھرتا ہوں میں خیال زدہ تمہاری بزم سے جب بھی اٹھے تو حال زدہ کبھی جواب کے مارے کبھی سوال زدہ ترے فراق کے مارے نظر تو آتے ہیں نگار شعر کہاں ہیں ترے وصال زدہ نہ دیکھو یوں مری جانب اداس آنکھوں سے کہ مجھ سے پہلے بھی گزرے بہت کمال ...

مزید پڑھیے

شہرت فن بہت ہوئی داد کمال دے گئے

شہرت فن بہت ہوئی داد کمال دے گئے شعر تو دوستو مگر صاحب حال دے گئے نورد گداز جو بھی تھا دل کی لگی کا کھیل تھا شیشۂ زندگی کو ہم شمع خیال دے گئے پرسش غم کے ساتھ تھی شرکت غم نگاہ میں کتنا ملال لے گئے کتنا ملال دے گئے صبح چمن چمن نئی شام کرن کرن نئی ہم تری کائنات کو تیرا جمال دے ...

مزید پڑھیے

آنسو تمہاری آنکھ میں آئے تو اٹھ گئے

آنسو تمہاری آنکھ میں آئے تو اٹھ گئے ہم جب کرم کی تاب نہ لائے تو اٹھ گئے بیٹھے تھے آ کے پاس کہ اپنوں میں تھا شمار دیکھا کہ ہم ہی نکلے پرائے تو اٹھ گئے ہم حرف زیر لب تھے ہمیں کون روکتا لفظوں کے تم نے جال بچھائے تو اٹھ گئے بیٹھے چھپا چھپا کے جو دامن میں آفتاب ہم نے بھی کچھ چراغ ...

مزید پڑھیے

کچھ خواب کچھ خیال میں مستور ہو گئے

کچھ خواب کچھ خیال میں مستور ہو گئے تم کیا قریب نکلے کہ سب دور ہو گئے آنکھوں کے در تھے بند تو جینا محال تھا آنکھیں کھلیں تو اور بھی معذور ہو گئے ایسے چھپے کہ سرمۂ چشم جہاں ہوئے ایسے کھلے کہ برق سر طور ہو گئے جادوگری کے راز سے نا آشنا نہ تھے ہم تو ترے خیال سے مجبور ہو گئے مٹی پہ آ ...

مزید پڑھیے

تری آنکھوں میں اک مبہم فسانہ ڈھونڈھ ہی لے گا

تری آنکھوں میں اک مبہم فسانہ ڈھونڈھ ہی لے گا دل برباد جینے کا بہانہ ڈھونڈ ہی لے گا یہ دنیا ہے یہاں ہر آبگینہ ٹوٹ جاتا ہے کہیں چھپتے پھرو آخر زمانہ ڈھونڈھ ہی لے گا کسی کا نقش پا تو مل ہی جائے گا جو آنکھیں ہیں اگر سر ہے تو کوئی آستانہ ڈھونڈھ ہی لے گا کہیں تو عمر بھر کی بے قراری لے ...

مزید پڑھیے

کف قاتل میں خنجر جاگتا ہے

کف قاتل میں خنجر جاگتا ہے بڑا پر کیف منظر جاگتا ہے ادھر انگڑائیاں لیتی ہیں نیندیں ادھر زخموں کا بستر جاگتا ہے اٹھے ہے پہلے سینے میں دھواں سا پھر آنکھوں میں سمندر جاگتا ہے عجب ہے درد کو یادوں سے نسبت کہ نغمہ جیسے لے پر جاگتا ہے تمناؤں کا یہ انجام توبہ لہو کا اک سمندر جاگتا ...

مزید پڑھیے

اک اور زندگی ہے سنا ہے قضا کے بعد

اک اور زندگی ہے سنا ہے قضا کے بعد یعنی سزا ہے اور ابھی اس سزا کے بعد کیا جانیے کہاں میں کھڑا چیختا رہا ابھری نہ بازگشت بھی میری صدا کے بعد لگتا ہے اب یہ زور تلاطم کو دیکھ کر جیسے نہ ہو خدا بھی میرا نا خدا کے بعد بدلو جو تم نگاہ تو یہ بھی رہے خیال آئینہ ٹوٹ جائے ہے عکس جفا کے ...

مزید پڑھیے

بغیر تولے پروں کو اڑان مت لینا

بغیر تولے پروں کو اڑان مت لینا زمین والو کبھی آسمان مت لینا یہ بام و در بھی اگر جسم کے پگھل جائیں کسی سے بھیک میں تم سائبان مت لینا بہت عظیم ہنر ہے یہ خاکساری بھی تم اپنے سر پہ مگر خاکدان مت لینا بس اب تو پونچھ لو گرد ملال چہرے سے کسی کے ضبط کا پھر امتحان مت لینا جہاں پہ لوگ بہت ...

مزید پڑھیے

نئے لباس کو ہم تار تار کیا کرتے

نئے لباس کو ہم تار تار کیا کرتے ملی تھی بھیک میں فصل بہار کیا کرتے ہم اپنے زخم تمنا شمار کیا کرتے تمام عمر یہی کاروبار کیا کرتے جب آفتاب کئی اپنی دسترس میں رہے تمہیں کہو کہ چراغوں سے پیار کیا کرتے ہمارے ہاتھ میں پتھر تھے پھل گرانے کو ہم آندھیوں کا بھلا انتظار کیا کرتے کبھی ...

مزید پڑھیے

مرا خواب میرا خیال تو ترا ذکر ہے مری گفتگو

مرا خواب میرا خیال تو ترا ذکر ہے مری گفتگو مرا ہر نفس تری آرزو مرا ہر قدم تری جستجو مجھے ضد نہیں مگر آ بھی جا بڑا یاس و غم کا ہجوم ہے ترے درد کی مرے ضبط کی کہیں لٹ نہ جائے یہ آبرو میں ملامتوں کا شکار بھی مجھے کافری کا خطاب بھی مری مے کشی کا خمار تو مری بندگی کا شعار تو یہ کٹھن تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3870 سے 4657