سنتا رہا ہے اور سنے گا جہاں مجھے
سنتا رہا ہے اور سنے گا جہاں مجھے یوں رکھ گیا ہے کوئی سر داستاں مجھے سقراط کیا مسیح کیا ذکر حسین کیا ماضی سنا رہا ہے مری داستاں مجھے بے نور میرے بعد ہوئی بزم کائنات تم تو بتا رہے تھے بہت رائیگاں مجھے موجوں سے ایک عمر رہا معرکہ مگر غرقاب کر گئیں مری گہرائیاں مجھے کس کو گماں تھا ...