شاعری

سنتا رہا ہے اور سنے گا جہاں مجھے

سنتا رہا ہے اور سنے گا جہاں مجھے یوں رکھ گیا ہے کوئی سر داستاں مجھے سقراط کیا مسیح کیا ذکر حسین کیا ماضی سنا رہا ہے مری داستاں مجھے بے نور میرے بعد ہوئی بزم کائنات تم تو بتا رہے تھے بہت رائیگاں مجھے موجوں سے ایک عمر رہا معرکہ مگر غرقاب کر گئیں مری گہرائیاں مجھے کس کو گماں تھا ...

مزید پڑھیے

جانتے تھے غم ترا دریا بھی تھا گہرا بھی تھا

جانتے تھے غم ترا دریا بھی تھا گہرا بھی تھا ڈوبنے سے پیشتر سوچا بھی تھا سمجھا بھی تھا آئنہ اے کاش تو اپنا بنا لیتا مجھے فائدہ اس میں بہت تیرا بھی تھا میرا بھی تھا اک عذاب جان تھی اس کی تنک خوئی مگر ذائقہ اس درد کا میٹھا بھی تھا تیکھا بھی تھا کیسے پڑھ لیتا میں اس چہرہ سے اپنا حال ...

مزید پڑھیے

وہ غزل کی کتاب ہے پیارے

وہ غزل کی کتاب ہے پیارے اس کو پڑھنا ثواب ہے پیارے وہ کبھی نرم چاندنی سی لگے اور کبھی آفتاب ہے پیارے عمر کچی ہے عشق کیا جانے خامشی بھی جواب ہے پیارے اپنے ہاتھوں پلائے خوشبو تو سادہ پانی شراب ہے پیارے اس کو پڑھنا تو چوم کر پڑھنا وہ خدا کی کتاب ہے پیارے اس کو دیکھو لباس مت ...

مزید پڑھیے

جسم کے گھروندے میں آگ شور کرتی ہے

جسم کے گھروندے میں آگ شور کرتی ہے دل میں جب محبت کی چاندنی اترتی ہے شام کے دھندلکوں میں ڈوبتا ہے یوں سورج جیسے آرزو کوئی میرے دل میں مرتی ہے دن میں ایک ملتی ہے اور دوسری شب میں دھوپ جب بچھڑتی ہے چاندنی سنورتی ہے باغباں نے روکا یا لے گیا اسے بادل بات کیا ہوئی خوشبو اتنی دیر کرتی ...

مزید پڑھیے

پھول پر اوس ہے عارض پہ نمی ہو جیسے

پھول پر اوس ہے عارض پہ نمی ہو جیسے اس کے چہرے پہ مری آنکھ دھری ہو جیسے اس کی پلکوں پہ رکھوں ہونٹ تو یوں جلتے ہیں اس کے سینے میں کہیں آگ لگی ہو جیسے جھیل کے ہونٹ پہ سورج کی کرن لہرائی میرے محبوب کے ہونٹوں پہ ہنسی ہو جیسے اب بھی رہ رہ کے مرے دل میں سسکتا ہے کوئی اس میں مورت کوئی ...

مزید پڑھیے

دل کے آنگن میں تری یاد کا تارا چمکا

دل کے آنگن میں تری یاد کا تارا چمکا میری بے نور سی آنکھوں میں اجالا چمکا شام کے ساتھ یہ دل ڈوب رہا تھا لیکن یک بیک جھیل کے اس پار کنارا چمکا ہر گلی شہر کی پھولوں سے سجی میرے لیے ہر دریچے میں کوئی چاند سا چہرہ چمکا غم کے پردے میں خوشی بھی تو چھپی ہوتی ہے خوش ہوا میں جو مرے پاؤں ...

مزید پڑھیے

میں تجھے بھولنا چاہوں بھی تو نا ممکن ہے

میں تجھے بھولنا چاہوں بھی تو نا ممکن ہے تو مری پہلی محبت ہے مرا محسن ہے میں اسے صبح نہ جانوں جو ترے سنگ نہیں میں اسے شام نہ مانوں کہ جو تیرے بن ہے کیسا منظر ہے ترے ہجر کے پس منظر کا ریگ صحرا ہے رواں اور ہوا ساکن ہے تیری آنکھوں سے ترے ہاتھوں سے لگتا تو نہیں میرے احباب یہ کہتے ہیں ...

مزید پڑھیے

پہنچا دیا امید کو طوفان یاس تک

پہنچا دیا امید کو طوفان یاس تک بجھنے نہ دی فرات نے بچوں کی پیاس تک پہلے تو دسترس تھی شجر کے لباس تک لیکن خزاں نے نوچ لیا سب کا ماس تک چھڑکا گیا ہے زہر درختوں پہ اس قدر تلخی میں ڈھل گئی ہے پھلوں کی مٹھاس تک اس بار بھی لباس کو ترسیں گی چنّیاں یہ رونقیں ہیں چہروں پہ کھلتی کپاس ...

مزید پڑھیے

آج بھی جس کی خوشبو سے ہے متوالی متوالی رات

آج بھی جس کی خوشبو سے ہے متوالی متوالی رات وہ ترے جلتے پہلو میں تھی جان نکالنے والی رات صبح سے تنہا تنہا پھرنا پھر آئے گی سوالی رات اور ترے پاس دھرا ہی کیا ہے اے مری خالی خالی رات دل پر برف کی سل رکھ دینا ناگن بن کر ڈس لینا اپنے لیے دونوں ہی برابر کالی ہو کہ اجالی رات پیلے پتے ...

مزید پڑھیے

مانا کہ ستارہ سر افلاک بہت ہیں

مانا کہ ستارہ سر افلاک بہت ہیں ہم کو بھی ہمارے خس و خاشاک بہت ہیں کھلتے ہیں کدھر گل دل صد چاک بہت ہیں دامن ہیں کہاں دیدۂ نمناک بہت ہیں اتنا نہ ہنسو صاحب ادراک بہت ہیں آہستہ چلو لوگ تہ خاک بہت ہیں مٹنے کو تو مٹ جاتے ہیں ارباب محبت اکسیر ہیں اس راہ میں کم خاک بہت ہیں جس رنگ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3869 سے 4657