شاعری

فروغ کثرت جلوہ سے خود تماشا ہوں

فروغ کثرت جلوہ سے خود تماشا ہوں میں اس کے سامنے بیٹھا ہوں اور تنہا ہوں نگاہ شوق و دل مضطرب ہیں زاد سفر شکستہ پا ہوں سر رہ گزار بیٹھا ہوں بڑھاؤں دست طلب کیا کہ ظرف مانع ہے لب فرات کھڑا ہوں میں اور پیاسا ہوں میں اپنی ذات میں اک کائنات ہوں خود بھی اگرچہ ذرہ ہوں لیکن محیط صحرا ...

مزید پڑھیے

سلگتی ریت کی قسمت میں دریا لکھ دیا جائے

سلگتی ریت کی قسمت میں دریا لکھ دیا جائے مجھے ان جھیل سی آنکھوں میں رہنا لکھ دیا جائے تری زلفوں کے سائے میں اگر جی لوں میں پل دو پل نہ ہو پھر غم جو میرے نام صحرا لکھ دیا جائے مرا اور اس کا ملنا اب تو نا ممکن سا لگتا ہے اسے سورج مجھے شب کا ستارا لکھ دیا جائے اکیلا میں ہی کیوں آخر ...

مزید پڑھیے

مری زندگی کسی موڑ پر کبھی آنسوؤں سے وفا نہ دے

مری زندگی کسی موڑ پر کبھی آنسوؤں سے وفا نہ دے تری آنکھ کی یہ گھٹا کہیں یوں برس کے مجھ کو رلا نہ دے وہی چھاؤں نیم کے پیڑ کی وہی شام دے یہ فضا نہ دے گئے موسموں کا اسیر ہوں نئے موسموں کی سزا نہ دے مرے ناخدا ترا شکریہ کوئی اور مجھ پہ کرم نہ کر تری مصلحت کی ہوا کہیں مرا بادبان اڑا نہ ...

مزید پڑھیے

کچھ تو مایوس دل تیرے بس میں بھی ہے

کچھ تو مایوس دل تیرے بس میں بھی ہے زندگی کا ہنر خار و خس میں بھی ہے آپ کا جو ارادہ ہو کہہ دیجئے دل ابھی کچھ میری دسترس میں بھی ہے تیری مرضی سے میں مانگتا ہوں تجھے میرا کردار میری ہوس میں بھی ہے آ کہ ٹوٹے تعلق کو پھر جوڑ لیں تیرے بس میں بھی ہے میرے بس میں بھی ہے شہر گل میں بھی ہیں ...

مزید پڑھیے

کیسے رفو ہوں چاک گریباں میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

کیسے رفو ہوں چاک گریباں میں بھی سوچوں تو بھی سوچ اپنے اپنے درد کا درماں میں بھی سوچوں تو بھی سوچ جس کے لئے اک عمر سے لمبی کاٹی ہم نے کالی رات صبح وہ کیوں ہے شام بداماں میں بھی سوچوں تو بھی سوچ میرے لہو سے نقش ہوئی ہے میری ہی تصویر مگر کس کا ہے یہ شوق نگاراں میں بھی سوچوں تو بھی ...

مزید پڑھیے

ٹھہرے تو کہاں ٹھہرے آخر مری بینائی

ٹھہرے تو کہاں ٹھہرے آخر مری بینائی ہر شخص تماشا ہے ہر شخص تماشائی یہ حسن کا دھوکا بھی دل کے لئے کافی تھا چھونے کے لئے کب تھی مہتاب کی اونچائی آئینے کی حاجت سے انکار نہیں لیکن اس درجہ نہ تھا پہلے دستور خود آرائی سرمایۂ دل آخر اور اس کے سوا کیا ہے ہر درد سے رشتہ ہے ہر غم سے ...

مزید پڑھیے

دور تا حد نظر آب شجر کچھ بھی نہیں

دور تا حد نظر آب شجر کچھ بھی نہیں جانے کیا کیا تھا نگاہوں میں مگر کچھ بھی نہیں جس کی تکمیل میں اک عمر ہوئی اپنی تمام وقت آیا تو وہ سامان سفر کچھ بھی نہیں دور تک پھیل گئی زخم چٹکنے کی صدا وہ بہت پاس تھا اور اس کو خبر کچھ بھی نہیں ہر نفس کرب کے جنگل میں بھٹکنے کے سوا آگہی کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

خزانہ لطف کا جیسے نفس نفس میں تھا

خزانہ لطف کا جیسے نفس نفس میں تھا عجب سرور کا عالم میری ہوس میں تھا وہاں بھی لوگ اجالوں پہ ناز کرتے تھے ہر آفتاب جہاں تیرگی کے بس میں تھا پھرے بھی دن تو اسے پتھروں کے پاؤں ملے وہ ایک پھول جو مدت سے خار و خس میں تھا تھکن نہیں تھی یہ تھا بے حسی کا سناٹا عجیب کرب سا اک نالۂ جرس میں ...

مزید پڑھیے

ہمیں ہر سانس دشواری لگے ہے

ہمیں ہر سانس دشواری لگے ہے مگر یہ زندگی پیاری لگے ہے تمہیں دھوکا سحر کا ہے تو ہوگا ہمیں تو رات اندھیاری لگے ہے مرے ملبوس پر چھینٹے لہو کے ترے دامن کی گلکاری لگے ہے زباں شاید یہی شرفا کی ٹھہرے تمہیں جو آج بازاری لگے ہے وفا کیا ہے یہ تم اس دل سے پوچھو کہ جس دل کو یہ بیماری لگے ...

مزید پڑھیے

سینۂ سنگ میں ڈھونڈھتا ہے گداز

سینۂ سنگ میں ڈھونڈھتا ہے گداز دے خدا دل کو اک اور عمر دراز ہم دکھانا بھی چاہیں اگر کچھ کو کچھ آئنوں سے کریں کس طرح ساز باز اک طرف خواب ہے اک طرف زندگی دیکھیے کون ہوتا ہے اب سرفراز تیرے غم سے ملی دل کو وہ زندگی تجھ سے بھی کر دیا ہے ہمیں بے نیاز اس طرح میری آنکھوں سے آنسو بہے بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3868 سے 4657