ہر نفس پر یہ گماں ہے کہ خطا ہو جیسے
ہر نفس پر یہ گماں ہے کہ خطا ہو جیسے عمر یوں گزری کہ جینے کی سزا ہو جیسے میں بہ ہر طور ہوں پابند شمار انفاس ساز ہر حال میں مجبور نوا ہو جیسے زندگی امر مشیت ہے مگر کیا کہیے وہ ندامت ہے کوئی جرم کیا ہو جیسے مجھ کو ہر حادثۂ عصر ہوا یوں محسوس میرے ہی دل کے دھڑکنے کی صدا ہو جیسے اس ...