شاعری

ہر نفس پر یہ گماں ہے کہ خطا ہو جیسے

ہر نفس پر یہ گماں ہے کہ خطا ہو جیسے عمر یوں گزری کہ جینے کی سزا ہو جیسے میں بہ ہر طور ہوں پابند شمار انفاس ساز ہر حال میں مجبور نوا ہو جیسے زندگی امر مشیت ہے مگر کیا کہیے وہ ندامت ہے کوئی جرم کیا ہو جیسے مجھ کو ہر حادثۂ عصر ہوا یوں محسوس میرے ہی دل کے دھڑکنے کی صدا ہو جیسے اس ...

مزید پڑھیے

تمہیں رسم وفا آئی نہ ہم طرز کرم سمجھے

تمہیں رسم وفا آئی نہ ہم طرز کرم سمجھے غرض آئین الفت کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے مزاج گردش دوراں اگر سمجھے تو ہم سمجھے کسی کے کاکل برہم کا عکس پیچ و خم سمجھے جبینیں چومتی ہیں آج بھی نقش قدم ان کے جو اہل دل ترے ابرو کو محراب حرم سمجھے شعور بندگی ہے یا یہ اعجاز محبت ہے کہ ہم ...

مزید پڑھیے

فیض جنوں سے محرم اسرار ہو گئے

فیض جنوں سے محرم اسرار ہو گئے اتنے فریب کھائے کہ ہشیار ہو گئے جب آشنائے لذت آزار ہو گئے ہر غم کے نقد جاں سے خریدار ہو گئے کچھ کم نہ تھا سرور غم زندگی ہمیں کم ظرف تھے وہ لوگ جو مے خوار ہو گئے کیا معرکے زمین کے سر ہو چکے تمام کیوں آسماں سے برسر پیکار ہو گئے بار گناہ لینا پڑا اپنے ...

مزید پڑھیے

شغل مے چھوڑیئے اٹھ آئیے مے خانوں سے

شغل مے چھوڑیئے اٹھ آئیے مے خانوں سے شعلے کچھ دور نہیں آپ کے ایوانوں سے دیکھنا رنگ گلستاں ہی بدل ڈالیں گے اب کے پلٹے جو یہ دیوانے بیابانوں سے مطمئن آپ نہ ہوں بھیج کے زنداں میں ہمیں انقلابات اٹھا کرتے ہیں زندانوں سے وقت کی بات قفس میں بھی ٹھکانہ نہ رہا ہو چلا تھا ہمیں جب انس ...

مزید پڑھیے

چراغ انجمن کو یہ خبر کیا

چراغ انجمن کو یہ خبر کیا کہ منزل کیا ہے اور رسم سفر کیا سفر میں فکر راحت اس قدر کیا سجائے ہیں یہ تم نے بام و در کیا نہیں گردش میں اب شمس و قمر کیا نہ بدلیں گے مرے شام و سحر کیا خلوص عجز ہے اک شرط سجدہ کسی کا نقش پا کیا سنگ در کیا مشیت کارفرمائے دو عالم تو پھر یہ نیک بد کیا خیر و شر ...

مزید پڑھیے

گزشتہ رات کوئی چاند گھر میں اترا تھا

گزشتہ رات کوئی چاند گھر میں اترا تھا وہ ایک خواب تھا یا بس نظر کا دھوکا تھا ستارے اوس مرے ساتھ صبح تک روئے مگر وہ شخص تو پتھر کا جیسے ترشا تھا بچھڑتے وقت انا درمیان تھی ورنہ منانا دونوں نے اک دوسرے کو چاہا تھا قریب آ کے بھی خوابوں کی کھو گئیں کرنیں کہ مجھ سے آگے مرا بد نصیب سایہ ...

مزید پڑھیے

کہانیاں خموش ہیں پہیلیاں اداس ہیں

کہانیاں خموش ہیں پہیلیاں اداس ہیں ہنسی خوشی کے دن گئے حویلیاں اداس ہیں کبھی کبھی تو باغ میں چلا آ گھومتا ہوا کہ ٹوٹنے کی چاہ میں چمیلیاں اداس ہیں پھلوں کے بوجھ سے لچک گئی ہیں ڈالیاں مگر ابھی تلک گلاب سی ہتھیلیاں اداس ہیں یہ چاندنی بہار یہ کلی یہ جھیل یہ فضا ترے بغیر تیری سب ...

مزید پڑھیے

بعد مدت ملے کچھ کہا نہ سنا بھر گئے زخم پروائیاں سو گئیں

بعد مدت ملے کچھ کہا نہ سنا بھر گئے زخم پروائیاں سو گئیں کنگھی کرتی ہوئی ریشمی زلف میں میری بیتاب سی انگلیاں سو گئیں آج الھڑ پجارن وہ آئی نہیں دل کے مندر میں گھنٹی بجائی نہیں آس کے سب دیے ٹمٹمانے لگے میرے جذبات کی گھنٹیاں سو گئیں اب فضاؤں میں خوشبو مہکتی نہیں اب وہ پاگل ہوائیں ...

مزید پڑھیے

اداس بیٹھا دیے زخم کے جلائے ہوئے

اداس بیٹھا دیے زخم کے جلائے ہوئے انہیں میں سوچ رہا ہوں جو اب پرائے ہوئے مجھے نہ چھوڑ اکیلا جنوں کے صحرا میں کہ راستے یہ ترے ہی تو ہیں دکھائے ہوئے گھرا ہوا ہوں میں کب سے جزیرۂ غم میں زمانہ گزرا سمندر میں موج آئے ہوئے کبھی جو نام لکھا تھا گلوں پہ شبنم سے وہ آج دل میں مرے آگ ہے ...

مزید پڑھیے

اشک ان آنکھوں سے ہم دل میں بہا کر دیکھیں

اشک ان آنکھوں سے ہم دل میں بہا کر دیکھیں آج سیلاب کو سینے میں چھپا کر دیکھیں ایک بار اور ذرا دل سے مرے کھیل کریں ایک بار اور مری آنکھوں میں آ کر دیکھیں آپ کے دل میں اتر جاؤں گا دھڑکن بن کر میرے ہاتھوں سے کبھی ہاتھ ملا کر دیکھیں کیا خبر آئے وہ جب تیز ہوں زخموں کے دیے ان چراغوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3866 سے 4657