شاعری

داغ دل زخم جگر یاد آیہ (ردیف .. ا)

داغ دل زخم جگر یاد آیہ جب وہ محبوب نظر یاد آیا یک بہ یک بجھ گئے آنکھوں کے دیے کون یہ رشک قمر یاد آیا لگ سکی آنکھ نہ پھر تا بہ سحر جب وہ خوابوں کا نگر یاد آیہ نظر آتے ہی نشان منزل دفعتاً رخت سفر یاد آیا شدت شوق حضوری میں مجھے سجدہ یاد آیا نہ سر یاد آیا مرکز فکر تھا اک مہر ...

مزید پڑھیے

فاصلے ہیں صدیوں کے اور زندگی تنہا

فاصلے ہیں صدیوں کے اور زندگی تنہا درد سر دو عالم کا ایک آدمی تنہا شعلۂ حوادث نے حوصلہ دیا ورنہ بجھ کے رہ گئی ہوتی شمع زندگی تنہا زندگی میں آمیزش ان کی رنگ بھرتی ہے دوستی ہی کام آئے اور نہ دشمنی تنہا پوچھتا ہے کب کوئی حال ان چراغوں کا روشنی دکھاتے ہیں جو گلی گلی تنہا تھی نفس ...

مزید پڑھیے

کم کسی کشتۂ آلام کی پرسش کی ہے

کم کسی کشتۂ آلام کی پرسش کی ہے ورنہ دنیا نے تو خود اپنی پرستش کی ہے ہم ہی کم فہم تھے سمجھے ستم ایجاد تمہیں تم نے تو ہم پہ عنایات کی بارش کی ہے سچ تو یہ ہے کہ برابر کے ہیں مجرم دونوں آپ کی نظروں نے دل سے مرے سازش کی ہے زندگی قرض سمجھ کر میں جئے جاتا ہوں اب تمنا نہ صلے کی نہ ستائش کی ...

مزید پڑھیے

کیف غم لطف الم یاد آیا

کیف غم لطف الم یاد آیا کس کا انداز کرم یاد آیا جادۂ زیست کے ہر موڑ پہ کیوں کاکل یار کا خم یاد آیا کر گیا غرق ندامت دل کو جب تری آنکھ کا نم یاد آیا نہ گیا پھر ترے آنے کا خیال تیرا جانا بھی نہ کم یاد آیا پایا ظلمت سے تجلی کا شعور دیر میں جا کے حرم یاد آیا کھل گیا وسعت داماں کا ...

مزید پڑھیے

رنگ لائے ہیں غم دل کے زمانے کیا کیا

رنگ لائے ہیں غم دل کے زمانے کیا کیا اک حقیقت نے تراشے ہیں فسانے کیا کیا اب تو مدت سے ہیں بے خواب ہماری آنکھیں ہم نے دیکھے تھے کبھی خواب سہانے کیا کیا کاش انسان کو ادراک ہنر ہو سکتا ہیں نہاں پیکر خاکی میں خزانے کیا کیا زندگی محو تماشا ہے بڑی حیرت سے اے اجل ہیں ترے آنے کے بہانے ...

مزید پڑھیے

مبارک دوستو تم کو تمہاری بزم آرائی

مبارک دوستو تم کو تمہاری بزم آرائی خدا حافظ میں اب چلتا ہوں سوئے دشت تنہائی روش بدلی نہ گل مہکے نہ نغمے ہیں نہ شہنائی بڑا شہرا تھا گلشن میں بہار آئی بہار آئی خوشا اعجاز الفت دفعتاً یہ کیسی یاد آئی سر طور تخیل جیسے موج برق لہرائی نہ ہرگز شکوۂ بیگانگی کرتا زمانے سے جو ہوتا ...

مزید پڑھیے

قرب ہے وصل میسر نہیں ہونے پاتا

قرب ہے وصل میسر نہیں ہونے پاتا کب سے اک قطرہ سمندر نہیں ہونے پاتا اللہ اللہ یہ صناعیٔ نقاش ازل ایک بھی نقش مکرر نہیں ہونے پاتا اپنے قدموں سے کچل دیتا ہے سایہ میرا جو مرے قد کے برابر نہیں ہونے پاتا اب تو ناکام تمناؤں کے ماتم کے لیے ایک لمحہ بھی میسر نہیں ہونے پاتا اتنا ادراک ...

مزید پڑھیے

فصل گل میں بھی تہی کیوں نہ ہو دامن اپنا

فصل گل میں بھی تہی کیوں نہ ہو دامن اپنا باغباں اپنا فضا اپنی نہ گلشن اپنا جرم نا شکر گزاری کی سزا کچھ تو ملے اپنے ہاتھوں سے لٹایا تھا نشیمن اپنا برق باری ہی سہی جشن چراغاں نہ سہی ایک لمحے کے لیے گھر تو ہو روشن اپنا اب تو آواز تنفس پہ یہ ہوتا ہے گماں جیسے میں مرثیہ خواں ہوں سرمد ...

مزید پڑھیے

بہت دشوار ہے تسکین ذوق رنگ و بو کرنا

بہت دشوار ہے تسکین ذوق رنگ و بو کرنا جو چن سکتے ہو کانٹے تو گلوں کی آرزو کرنا جہاد زندگی میں ہو جو خود کو سرخ رو کرنا جگر کو خاک کرنا اور کبھی دل کو لہو کرنا کسی کو دیکھنے کی خواب میں جب آرزو کرنا نظر کو اشک خون دل سے پہلے با وضو کرنا خرد کا دیجئے نام اس کو یا دیوانگی کہئے گریباں ...

مزید پڑھیے

محبت میں کہاں آسودگی محسوس ہوتی ہے

محبت میں کہاں آسودگی محسوس ہوتی ہے یہ وہ مے ہے کہ پی کر تشنگی محسوس ہوتی ہے بھڑک اٹھتے ہیں شعلے سوزش پیہم سے سینے میں کہیں پھر جا کے آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے نہ ہوں جب تک فروزاں شمعیں اشکوں کی سر مژگاں کہاں اے دوست دل میں روشنی محسوس ہوتی ہے طبیعت خوگر رنج و الم ہے اس قدر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3865 سے 4657