شاعری

تجھ پہ قرباں ہو جو سو بار کہاں سے لاؤں

تجھ پہ قرباں ہو جو سو بار کہاں سے لاؤں اب وہ دل اے نگہ یار کہاں سے لاؤں سر ہے اپنوں ہی کے الطاف و عنایات سے خم طبع منت کش اغیار کہاں سے لاؤں سنگ و آہن کو بھی پگھلا دے حرارت جن کی وہ سلگتے ہوئے افکار کہاں سے لاؤں ذہن افسردہ دل افگار پریشاں خاطر میں گل افشانیٔ گفتار کہاں سے ...

مزید پڑھیے

وفا کرنا وفا نا آشنا کے ساتھ بھی رہنا

وفا کرنا وفا نا آشنا کے ساتھ بھی رہنا چراغ زندگی لے کر ہوا کے ساتھ بھی رہنا شکست شیشۂ دل پر بجائے اشک افشانی کبھی اے چشم تر دست دعا کے ساتھ بھی رہنا مہکنا بوئے گل بن کر کبھی صحن گلستاں میں کبھی سرگشتہ آوارہ صبا کے ساتھ بھی رہنا محیط آب و گل میں جلوہ فرمائی بہ ہر‌ منظر نہاں ...

مزید پڑھیے

لا مکاں و مکاں بولتا ہے

لا مکاں و مکاں بولتا ہے جیسے سارا جہان بولتا ہے کیوں ہیں اہل زبان مہر بہ لب کیا کوئی بے زبان بولتا ہے کوئی سنتا نہیں کسی کی ہر اک اپنی اپنی زبان بولتا ہے لاکھ گرد سفر رہے خاموش رہ گزر کا نشان بولتا ہے ساری محفل دھواں دھواں سی ہوئی کون شعلہ بیان بولتا ہے خشک دھرتی بھی چپ نہیں ...

مزید پڑھیے

تمام رات ستاروں کو منہ چڑھاتے ہیں

تمام رات ستاروں کو منہ چڑھاتے ہیں یہ کس کی یاد کے جگنو ہمیں جگاتے ہیں شب فراق فقط سانحہ نہیں غم کا یہاں پہنچ کے خیالات جگمگاتے ہیں ہر ایک سانس ہمیں اور تباہ کرتی ہے ہم اپنے شور تنفس سے خوف کھاتے ہیں خزاں پسند بہاروں میں گم نہیں ہوتے بسنت میں بھی کئی پھول سوکھ جاتے ہیں

مزید پڑھیے

تیرے خیال و خواب سے بے جا ہوں اب تلک

تیرے خیال و خواب سے بے جا ہوں اب تلک یعنی میں اپنی ذات سے بچھڑا ہوں اب تلک گر ہوں تجھے نصیب تو مجھ کو نہ یوں گنوا کتنوں کے واسطے میں تمنا ہوں اب تلک مجھ سے الگ ہوا وہ اجالوں میں کھو گیا میں تیرگی کی ضبط میں بیٹھا ہوں اب تلک اب تو تمام زخم بھی نابود ہو گئے حد عذاب ہے کہ میں زندہ ...

مزید پڑھیے

قدموں کے اپنے زور دکھاتے ہوئے چلو

قدموں کے اپنے زور دکھاتے ہوئے چلو جب بھی چلو تو پاؤں بجاتے ہوئے چلو ہر چھوٹتے مقام کو تیری کمی کھلے ہر دل میں اک مقام بناتے ہوئے چلو دنیا چلی ہے رات سے پھر صبح کی طرف زلف سیاہ رنگ لٹاتے ہوئے چلو تیرے بنا تو بے کسی بھی بے کسی نہیں ممکن ہو گرچہ یاد میں آتے ہوئے چلو گو عشق ہے تو ...

مزید پڑھیے

اس کی یادوں پہ صدقے ہر بات بکھرتی جاتی ہے

اس کی یادوں پہ صدقے ہر بات بکھرتی جاتی ہے ذکر کئے جاتا ہوں اس کا رات گزرتی جاتی ہے واقف ہے ہر پھول چمن کا اس کے بدن کی خوشبو سے چھو کر اس کو باد صبا بھی آہیں بھرتی جاتی ہے کھو جاتے ہیں چاند ستارے اس کی حسن پرستی میں جیوں جیوں گہری ہوتی ہے شب اور نکھرتی جاتی ہے خواب ادھورے ماتم ...

مزید پڑھیے

ایک مخصوص دائرہ رکھنا

ایک مخصوص دائرہ رکھنا قربتوں میں بھی فاصلہ رکھنا دوست تو دوست دشمنوں سے بھی ملنے جلنے کا سلسلہ رکھنا سخت سے سخت مشکلوں میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھنا عکس چہرہ دکھائی دیتا ہے اپنے ہاتھوں میں آئینہ رکھنا رنج ہو یا خوشی کا موقع ہو بات میں بات کا مزہ رکھنا اب تو عادت سی ہو ...

مزید پڑھیے

کیا کہیں کس سے کہیں رنجش و آفات کا غم

کیا کہیں کس سے کہیں رنجش و آفات کا غم اب سہا جاتا نہیں گردش حالات کا غم ہر گھڑی شعلے برستے تھے بدن پر میرے کیسے میں بھولتا گزرے ہوئے لمحات کا غم خواب بھی ٹوٹ گئے دل بھی مرا ٹوٹ گیا عمر بھر مجھ کو رہا ان سے ملاقات کا غم میں خوشی پہلی سی اے دوست کہاں سے لاؤں اب تو ہر وقت مرے پیچھے ...

مزید پڑھیے

جس کو چاہا تھا کب ملا مجھ کو

جس کو چاہا تھا کب ملا مجھ کو زندگی سے ہے یہ گلہ مجھ کو درد یادیں اور اک شکستہ دل عاشقی کا ہے یہ صلہ مجھ کو اور کسی سے بھی ربط رکھنے کا راس آیا نہ سلسلہ مجھ کو اب تو آنکھوں سے جی نہیں بھرتا اب کے ہونٹوں سے ہی پلا مجھ کو میری قسمت میں قرب کا لمحہ گر لکھا ہے تو پھر دلا مجھ کو اس کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3864 سے 4657