شاعری

شوق سرور شام غم اپنے سوا کسی کا ہے

شوق سرور شام غم اپنے سوا کسی کا ہے جام و سبو کسی کے ہیں کیف و نشہ کسی کا ہے خود تک پہنچ کے دیکھیے کیا کیا پڑے گا بیچ میں گویا قبا ہے آپ کی بند قبا کسی کی ہے خیمۂ سامری کو ہے اژدر رامسس کا خوف یعنی عصا کسی کی ہے یعنی خدا کسی کا ہے کس کس خدا کا ذکر ہو کس کس خدا سے کام ہو دل میں دعا ...

مزید پڑھیے

پیران جبہ و کلاہ سارا فساد ایک ہے

پیران جبہ و کلاہ سارا فساد ایک ہے سب کا خدا الگ سہی سب کا مفاد ایک ہے چاروں طرف ہیں مذہبی چاروں طرف ہیں نفرتیں سب کی نماز ایک ہے سب کا جہاد ایک ہے طبع شعور و فکر کی زد پر رہا ہے اختیار صدیوں سے شیخ و شاہ کو ہم سے عناد ایک ہے روشن چراغ ہو یا دل تاباں قلم ہو یا خرد گرد شب خیال سے ان ...

مزید پڑھیے

ایک ہی راہ کو عمر بھر دیکھنا

ایک ہی راہ کو عمر بھر دیکھنا کوئی آئے نہ آئے مگر دیکھنا تم ہمیں دیکھ کر کھو گئیں سوچ میں اب دوبارہ ہمیں سوچ کر دیکھنا تیرا پلکیں جھکانا ہمیں دیکھ کر پھر ادھر دیکھنا پھر ادھر دیکھنا عشق میں ٹوٹنے کا الگ لطف ہے تم کبھی عشق میں ٹوٹ کر دیکھنا ہاتھ سے اک دعا گر کے کرچی ہوئی اب مری ...

مزید پڑھیے

اوڑھ لے پھر سے بدن رات کے بازو نکلے

اوڑھ لے پھر سے بدن رات کے بازو نکلے خواب در خواب کسی خوف کا چاقو نکلے آئنے پر کسی ناخن کی خراشوں کا وہم عکس نوچوں تو وہاں بھی ترا جادو نکلے تیری آواز کی کرنوں سے تصور روشن پھول نکلے کہ ترے جسم کی خوشبو نکلے شعبدہ گر تری آغوش تلک جا پہنچا تیرے پہلو سے کئی اور بھی پہلو نکلے جشن ...

مزید پڑھیے

صحرائے کربلائے رہ عاشقاں کے بیچ

صحرائے کربلائے رہ عاشقاں کے بیچ خوشبو سی پھوٹتی ہے یہاں ہمرہاں کے بیچ رنج شکم تا تشنہ لبی صبر ہا و ہو یہ گفتگو نہیں ہے سہولت گراں کے بیچ اب بھی چراغ پوری تمازت سے ہے فروز خیمۂ خانوادۂ شہزادگاں کے بیچ تیغائے دشمناں سے قلم ہو رہے ہیں سر لیکن ہیں سرفراز صف دشمناں کے بیچ سینۂ ...

مزید پڑھیے

اشک باقی کوئی اب دیدۂ گریاں میں نہیں

اشک باقی کوئی اب دیدۂ گریاں میں نہیں پھر بھی تو کوئی کمی سوزش پنہاں میں نہیں آرزو مجھ کو کسی شاہد گل کی کیا خوب میری قسمت کے تو کانٹے بھی گلستاں میں نہیں فصل گل آئی تو کیا حیف پئے نذر بہار اب تو اک تار بھی باقی مرے داماں میں نہیں ذوق نظارہ پہ ہے عظمت جلوہ موقوف دل کشی ورنہ کوئی ...

مزید پڑھیے

سرخیٔ رنگ شفق نور سحر لے کے چلو

سرخیٔ رنگ شفق نور سحر لے کے چلو رہروو مشعل خورشید و قمر لے کے چلو جذبۂ جہد مسلسل تپش عزم جواں اب جو چلتے ہو تو یہ زاد سفر لے کے چلو پھونک ڈالیں جو ہر اک خرمن فکر باطل اپنی بے باک نگہ میں وہ شرر لے کے چلو تم کو کرنا ہے مداوائے غم نوع بشر درد دل لے کے چلو سوز جگر لے کے چلو آج پھر ...

مزید پڑھیے

چمن ہے کیسا یہ کیسی بہار ہے ساقی

چمن ہے کیسا یہ کیسی بہار ہے ساقی لہو سے صحن چمن لالہ زار ہے ساقی یہ چیرہ دستیٔ اہل جنوں معاذ اللہ قبائے لالہ و گل تار تار ہے ساقی ہے زد میں آتش و آہن کی شہر رامش و رنگ اداس شام سحر سوگوار ہے ساقی یہ زخم زخم بدن اور یہ سوختہ لاشیں عجیب مرحلۂ گیر و دار ہے ساقی یہ کیا ستم ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کوئی ستارہ جبیں کوئی ماہ رو بھی نہیں

کوئی ستارہ جبیں کوئی ماہ رو بھی نہیں علاج وحشت دل ساغر و سبو بھی نہیں کریں نہ اہل چمن پر وہ تبصرہ جن کو شعور موسم و تمئیز رنگ و بو بھی نہیں نہیں ہے کوئی عناں گیر راہ وار جنوں لباس عقل میں گنجائش رفو بھی نہیں نہ جانے کس لئے گھر سے نکلتے ڈرتا ہوں اگرچہ شہر میں کوئی مرا عدو بھی ...

مزید پڑھیے

یہی نہیں کہ فقط بام و در سے بچ کے چلوں

یہی نہیں کہ فقط بام و در سے بچ کے چلوں تلاش یار میں شمس و قمر سے بچ کے چلوں یہ رنگ و نور ہیں دامن کش حیات مگر ہے مصلحت کا تقاضا ادھر سے بچ کے چلوں یہ پیچ و خم یہ نشیب و فراز راہ حیات کہاں سے ہو کے چلوں اور کدھر سے بچ کے چلوں جو ساتھ دے نہ سکے تا حریم جلوۂ ناز میں چاہتا ہوں ہر اس رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3863 سے 4657